الجواب وباللہ التوفیق واضح رہے کہ بریلوی امام کے عقائد اگر حدِ کفر تک نہیں ہے، تو اسکے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے اور اگر حدِ کفر کو پہنچ گیے تو بغیر تجدید ایمان کے اسکے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ہے ، نیز جن صاحب ان امام کے پیچھے نماز پڑھی ہے ان کی نماز شرعاً درست ہے اسکے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، البتہ بہتر یہی ہے کہ حنفی امام کے پیچھے نماز ادا کی جاے کیونکہ بریلوی عالم کی امامت مکروہ تحریمی ہے، فقط_ ( مستفاد از: فتاوی قاسمیہ ٥٢٠/٦)_(فتاوی محمودیہ٩٦/٢)

📖 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ».حوالہ: سنن الدارقطني، ج ٢، ص ٤٤۔

📖 وَتَجُوزُ الصَّلَاةُ خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ.حوالہ: شرح العقائد، ص ١٥٩۔

مزید متعلقہ سوالات