👁دیکھنے والوں کی تعداد:0
بریلوی امام کی اقتدا میں نماز کا اعادہ کرنا ہوگا؟
الجواب وباللہ التوفیق واضح رہے کہ بریلوی امام کے عقائد اگر حدِ کفر تک نہیں ہے، تو اسکے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے اور اگر حدِ کفر کو پہنچ گیے تو بغیر تجدید ایمان کے اسکے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ہے ، نیز جن صاحب ان امام کے پیچھے نماز پڑھی ہے ان کی نماز شرعاً درست ہے اسکے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، البتہ بہتر یہی ہے کہ حنفی امام کے پیچھے نماز ادا کی جاے کیونکہ بریلوی عالم کی امامت مکروہ تحریمی ہے، فقط_ ( مستفاد از: فتاوی قاسمیہ ٥٢٠/٦)_(فتاوی محمودیہ٩٦/٢)
📖 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ».حوالہ: سنن الدارقطني، ج ٢، ص ٤٤۔
📖 وَتَجُوزُ الصَّلَاةُ خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ.حوالہ: شرح العقائد، ص ١٥٩۔
مزید متعلقہ سوالات
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- شوہر اگر اپنی بیوی سے کہے کہ ’’میں نے تجھ کو چھوڑ دیا‘‘ تو اس سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟موجودہ وزن کے اعتبار سے بھی وضاحت کرنے کے بعد بتائیں کہ ادائیگی کے وقت کس قیمت کا لحاظ ہوگا ایا بوقت نکاح یا بوقت ادا مدلل بیان کریں؟