ایک ضلع میں پندرہ دن سے زیادہ قیام کی نیت اور نمازِ قصر کا حکم
الجواب:-اگر کوئی جماعت کسی ضلع کے اندر ایک ہی جگہ 15 دن سے زیادہ رہنے کی نیت نہ کرے بلکہ دو جگہ میں 15 دن سے زیادہ مثلا 20 دن رہنے کی نیت کرے تو دیکھا جائے گا کہ ایک دوسرے کے تابع ہیں یا نہیں اگر تابع نہیں ہے بلکہ الگ الگ ہیں تو جماعت مسافر رہے گا مقیم نہیں ہوگا کیونکہ 15 دن سے کم رہنے کی نیت ہے اور اگر تابع ہیں تو اب وہ جماعت مقیم ہو جائے گا یعنی اتمام کرے گا کیونکہ 15 دن سے زیادہ رہنے کے نیت ہے-
📖 وإذا نوى المسافرُ الإقامةَ في موضعين خمسةَ عشرَ يومًا، نحوَ مكةَ ...، لم يصر مقيمًا؛ لأنَّ النيةَ إنما تكونُ في موضعٍ واحدٍ...(المحيط البرهاني، 2/291، كتاب الصلاة، مكتبة الرشد، السعودية)
📖 فإن نوى المسافرُ الإقامةَ في موضعين خمسةَ عشرَ يومًا، نحوَ مكةَ ومِنى، والكوفةِ والحِيرة، لم يصر مقيمًا... ولو نوى أن يقيم بموضعين ثلاثين يومًا، يصلِّي أربعًا؛ لأنَّ إقامته بكلِّ موضعٍ تكون خمسةَ عشرَ يومًا...(الفتاوى التاتارخانية، 2/499، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 ولو نوى الإقامةَ خمسةَ عشرَ يومًا في موضعين، فإن كان كلٌّ منهما أصلًا بنفسه، نحوَ مكةَ ومِنى، والكوفةِ والحِيرة، لا يصير مقيمًا... ولو نوى إقامةَ خمسةَ عشرَ يومًا بقريتين...(الفتاوى الهندية، 1/200، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک شخص نے وصیت کی کہ ان پیسوں کو مسجد میں لگادینا پھر اس کا انتقال ہوگیا تو کیا ان پیسوں کو مدرسہ میں خرچ کرسکتے ہیں ؟
- مسجد میں تعلیم دینے پر استاد کی تنخواہ اور بچوں کی فیس کا شرعی حکم کیا ہے؟
- تراویح میں رکوع یا سجدے کے دوران تلاوت کرنے سے سجدۂ سہو کا کیا حکم ہے؟
- حادثے میں جسم کے ٹکڑے ہوجانے پر میت کو غسل کیسے دیا جائے؟
- ایک شخص کا معمول ٢٠ رجب کو زکوٰۃ نکالنے کا ہے، اس نے ٢٠ تاریخ کو حساب لگا لیا تھا، ابھی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی ٢٦ رجب تک تک اس کے پاس مزید مال آگیا تو اس مزید مال کی زکوٰۃ بھی اِسی سال ادا کرنی ہوگی؟