الجواب وباللہ التوفیق: اگر وہ شخص پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو وہ جمع شدہ رقم واپس ملنے کے بعد اس رقم کو جمیع مال کے ساتھ ملا کر زکوٰۃ ادا کرے گا،اور اگر پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہے اور یہ حاصل ہونے والی رقم نصاب کے بقدر ہے تو پھر اس رقم پر سال گزرنے کے بعد زکوۃ واجب ہوگی… واللہ اعلم بالصواب
📖 وﻣﻨﻬﺎ ﺣﻮﻻﻥ اﻟﺤﻮﻝ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺎﻝ اﻟﻌﺒﺮﺓ ﻓﻲ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻟﻠﺤﻮﻝ اﻟﻘﻤﺮﻱ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻘﻨﻴﺔ.....ﻭﻣﻦ ﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﻧﺼﺎﺏ ﻓﺎﺳﺘﻔﺎﺩ ﻓﻲ ﺃﺛﻨﺎء اﻟﺤﻮﻝ ﻣﺎﻻ ﻣﻦ ﺟﻨﺴﻪ ﺿﻤﻪ ﺇﻟﻰ ﻣﺎﻟﻪ ﻭﺯﻛﺎﻩ اﻟﻤﺴﺘﻔﺎﺩ ﻣﻦ ﻧﻤﺎﺋﻪ ﺃﻭﻻ ﻭﺑﺄﻱ ﻭﺟﻪ اﺳﺘﻔﺎﺩ ﺿﻤﻪ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﺑﻤﻴﺮاﺙ ﺃﻭ ﻫﺒﺔ ﺃﻭ ﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ (ھندیہ قدیم:کتاب الزکاۃ:اﻟﺒﺎﺏ اﻷﻭﻝ ﻓﻲ ﺗﻔﺴﻴﺮﻫﺎ ﻭﺻﻔﺘﻬﺎ ﻭﺷﺮاﺋﻄﻬﺎ:ج/١ ص/١٧٥)
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟