وبالله التوفيق:
جو قرآن کریم گھر میں رکھے ہوۓ ہیں، اور ان میں
کی ضرورت نہیں ہوتی ہے تو ان میں بھی کبھی کبھار تلاوت کرلی جائے تو بہتر ہے اور اگر ان میں تلاوت نہ کی جائے محض برکت کے لیے رکھے ہوۓ ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
📖 (١): رجل أمسك المصحف في بيته، ولا يقرأ، إن نوى الخير، والبركة لا يأثم ويرجى له الثواب. (الأشباه والنظائر/القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها، ٢٣/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
مزید متعلقہ سوالات
- ایک شخص (زید نے) عمر سے ایک مکان خریدا خریدار نے کچھ پیسہ ادا کر دیا اور باقی پیسے کے بارے میں جانب ان سے یہ طے ہوا کہ قسطوار ادا کرے گا پیسے والے یہ شرط لگائی کہ سارے پیسے ادا ہونے کے دور مبیع مشتری کے قبضے میں ہو جائے گی اس سے پہلے کسی جانبین اس پر راضی ہو گئے تو کیا یہ مقتضی عقد کے خلاف شرط ہے؟
- نکاح کے موقع پر لڑکی سے اجازت لینے کے لیے وکیل گواہان جاتے ہیں تو یہ وکیل پردے میں اجازت لے سکتا ہے نہیں؟ اور وکیل کا محرم ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اسی طرح ٹیلیفون کے ذریعہ سے وکیل بنانے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا ٹیلیفون میں نکاح درست ہو جائے گا؟ اسی طرح ویڈیو کمرہ کے ذریعہ نکاح درست ہو جائے گا یا نہیں؟ جب کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو یہ مجلس واحدہ میں شمار ہے یا نہیں؟
- حافظ قران رمضان کے اخری عشرہ کے اعتکاف میں بیٹھ گیا اور وہ دوسری مسجد میں قران سناتا ہے یا گھر یا حال میں قران سناتا ہے تو قران سنانے کے لیے دوسری مسجد یا گھر یا ہال میں جا سکتا ہے یا نہیں اگر جائے تو ان کا اعتکاف ہو جائے گا ؟
- ایک بچہ کا عقیقہ والے دن نام رکھا گیا اب تین سال بعد نام کے معنی اچھے نہ ہونے کی وجہ سے اس نام کو تبدیل کیا جارہا ہے، تو کیا تبدیل کرسکتے ہیں؟؟
- بعض روایات کے پیش نظر حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مشروع معلوم نہیں ہوتی اور امام صاحب کا موقف کیا ہے اور صحیح مسئلہ کیا ہے کہ عقیقہ مسنون ہے یا نہیں؟ اس پر دلائل اور خصوص کیا ہے؟ کتنے دنوں کے بعد عقیقہ کرنا مسنون ہے اس بات کو بھی واضح کر دے؟