وبالله التوفيق:
جو قرآن کریم گھر میں رکھے ہوۓ ہیں، اور ان میں
کی ضرورت نہیں ہوتی ہے تو ان میں بھی کبھی کبھار تلاوت کرلی جائے تو بہتر ہے اور اگر ان میں تلاوت نہ کی جائے محض برکت کے لیے رکھے ہوۓ ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
📖 (١): رجل أمسك المصحف في بيته، ولا يقرأ، إن نوى الخير، والبركة لا يأثم ويرجى له الثواب. (الأشباه والنظائر/القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها، ٢٣/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟