ایک شخص نے قربانی میں ایک بھینس خریدی بعد میں پاتا چلا کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے تو اس بھینس کی قربانی جائز ہے یا نہیں نیز قربانی کے بعد بھینس کے پیٹ سے اگر بچہ نکلے تو اس کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب و باللہ توفیق:- اگر بھینس قریب الولادت ہو تو اس کی قربانی مکرہ ہے اور اگر نہ ہو تو اس کی قربانی بلا کراہت جائز ہے ،اگر قربانی کے بعد بھینس کی پیٹ سے مرا ہوا بچہ نکلے تو اس کو کھانا جائز نہیں البتہ اگر زندہ بچہ نکلے تو اس کا گوشت کھایا جائے لیکن اگر ایام قربانی کے اندر ذبح نہ کیا جائے تو اسے صدقہ کرنا لازم ہے – فقط و الله اعلم–//}(1) بحر الرائق ،ج:٨،ص:٣١٢ زکریا –//الہندیہ ج:٥ ص:٣٣١ زکریا –//بداءع، ج:٤ ص:١٥٩ زکریا
📖 ويُكره ذبحُ الشاة إذا تقاربت ولادتُها؛ لأنه يُضيِّع ما في بطنها. (البحر الرائق، ج 8، ص 312، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 الجنين إذا خرج بعد ذبح أمه، إن خرج حيًّا فذُكِّيَ حَلَّ، وإن مات قبل الذبح لا يؤكل، وإن خرج ميتًا، فإن لم يكن كامل الخِلقة لا يؤكل أيضًا، في قولهم جميعًا. (بدائع الصنائع، ج 4، ص 159، مكتبة زكريا، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟