الجواب:-اگر کوئی امیر شخص قربانی کی نیت سے جانور خریدے تو اس کو بدل سکتا ہے یا فروخت بھی کر سکتا ہے البتہ اس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جو نانور بدلتا ہے یا فروخت کرتا ہے اس کے بعد والا اس سے اچھا ہو لیکن نہ بدلے تو بہتر ہے -البتہ بلا ضرورت اس کو بدلنا اور بیچنا مکروہ ہے اور دونوں جانور میں جو قیمت کا فرق ہوگا اس کو صدقہ کرنا لازم ہے -و الله اعلم –//قاضیخاں ،ج:٩،ص:٢٤٥ زکریا

📖 وأما الذي يجب على الفقير دون الغني، فالمشتري للأضحية ... وإن كان غنيًّا لا تجب عليه بشراء شيء.(الفتاوى الهندية، ج 5، ص 326، مكتبة زكريا، ديوبند)

📖 والجواب: أن المشتري للأضحية متعيّنةٌ للقربة إلى أن يُقام غيرُها مقامَها، فلا يحل له الانتفاع بها ما دامت متعيّنةً... ويأتي قريبًا: أنه يكره أن يبدل بها غيرَها، فيفيد تعيُّنها أيضًا.(رد المحتار على الدر المختار، ج 9، ص 544، كتاب الأضحية، مكتبة أشرفية، ديوبند)