قربانی کے لیے خریدا ہوا جانور تبدیل کرنا جائز ہے یا نہیں
الجواب:-اگر کوئی امیر شخص قربانی کی نیت سے جانور خریدے تو اس کو بدل سکتا ہے یا فروخت بھی کر سکتا ہے البتہ اس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جو نانور بدلتا ہے یا فروخت کرتا ہے اس کے بعد والا اس سے اچھا ہو لیکن نہ بدلے تو بہتر ہے -البتہ بلا ضرورت اس کو بدلنا اور بیچنا مکروہ ہے اور دونوں جانور میں جو قیمت کا فرق ہوگا اس کو صدقہ کرنا لازم ہے -و الله اعلم –//قاضیخاں ،ج:٩،ص:٢٤٥ زکریا
📖 وأما الذي يجب على الفقير دون الغني، فالمشتري للأضحية ... وإن كان غنيًّا لا تجب عليه بشراء شيء.(الفتاوى الهندية، ج 5، ص 326، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 والجواب: أن المشتري للأضحية متعيّنةٌ للقربة إلى أن يُقام غيرُها مقامَها، فلا يحل له الانتفاع بها ما دامت متعيّنةً... ويأتي قريبًا: أنه يكره أن يبدل بها غيرَها، فيفيد تعيُّنها أيضًا.(رد المحتار على الدر المختار، ج 9، ص 544، كتاب الأضحية، مكتبة أشرفية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟