جواب:اگر غسلِ جنابت کے دوران پورے جسم کو اچھی طرح دھو لیا جائے اور وضو کے اعضاء بھی دھل جائیں، تو الگ سے وضو کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ غسل ہی سے وضو بھی ادا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سر کو دھونے کی صورت میں الگ سے سر کا مسح کرنا بھی ضروری نہیں؛ کیونکہ غسل میں سر کا دھونا مسح کے قائم مقام ہوجاتا ہے، بلکہ دھونا مسح سے زیادہ مؤکد اور افضل ہے۔

📖 وَمَنْ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَجْزَأَهُ ذَلِكَ عَنِ الْوُضُوءِ، لِأَنَّ طَهَارَةَ الْجَنَابَةِ تَشْتَمِلُ عَلَى طَهَارَةِ الْأَعْضَاءِ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ مَسْحُ الرَّأْسِ وَاجِبًا فِي الْوُضُوءِ وَقَدْ غُسِلَ فِي الْغُسْلِ، وَالْغَسْلُ أَبْلَغُ مِنَ الْمَسْحِ.»حوالہ: ہدایت، جلد: ۱، صفحات: ۴۵-۴۷، مکتبہ بشریٰ

📖 وَإِنِ اغْتَسَلَ الْجُنُبُ غُسْلًا كَامِلًا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَجْزَأَهُ عَنِ الْوُضُوءِ --// الفتاوى الهندية: 1/4، المطبعة/المكتبة: حسب الطبعة