الجواب وباللہ التوفیق :- نماز میں چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑ کر سلام پھیرنے اور ہاتھ نہ چھوڑ کر سلام پھیرنے کے بارے میں اقابرین کے مختلف فتاوی ہیں، چنانچہ حضرت مولانا عبدالحئی لکھنوی اور حضرت مفتی عبداللہ لدھیانوی فرماتے ہیں کہ ہاتھ چھوڑ کر سلام کرنا افضل ہے کیونکہ چوتھی تکبیر کے بعد کوئی ذکر مسنون نہیں ہے۔
📖 وهما يخرج الجواب عما سئلت---من انه هل يضع مصلي الجنازة بعد تكبير الاخير من تكبير انه ثم يسلم ام يرسل ثم يسلم وهو انه ليس بعد التكبير الاخير ذكر مسنون وليس فيه الرسال(السعاية:١٥٩/١ بابو صفحة الصلاة)
مزید متعلقہ سوالات
- عیب کی تعریف مع مثال تحریر کریں؟
- اگر کسی جانور کے کان یا کسی اور جگہ ادھار کارڈ لگا ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے یا نہیں؟
- اگر کوئی شخص کسی دوکان سے ادھار سامان خریدے اور قیمت ادا کرنے کی مدت طے نہ کرے بلکہ یوں کہے کہ بعد میں دونگا تو ایسی صورت میں شرعا یہ درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟
- اگر کوئی شخص نماز کے اندر کوئی فرض یا کوئی واجب یا کوئی سنت چھوڑ دے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو سے کام چل جائے گا یا ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے اگر الگ ہے تو ہر ایک کو بیان کریں؟
- غیر کی زمین میں اس غیر کی اجازت کے بغیر طاقت کے بل بونے پر مسجد بنا لی گئی اس میں باضابطہ نماز ہونے لگے جب تک اس غیر کو اس زمین کا معاوضہ ادا نہ کیا جائے تو نماز مکروہ ہوتی رہے گی معاوضہ ادا کرنے کے بعد کراہت ختم ہو جائے گی تو سوال یہ ہے کہ معاوضہ ادا کرنے سے پہلے وہ شرعی مسجد کہاں لی جائے گی یا نہیں؟