الجواب وباللہ التوفیق :- نماز میں چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑ کر سلام پھیرنے اور ہاتھ نہ چھوڑ کر سلام پھیرنے کے بارے میں اقابرین کے مختلف فتاوی ہیں، چنانچہ حضرت مولانا عبدالحئی لکھنوی اور حضرت مفتی عبداللہ لدھیانوی فرماتے ہیں کہ ہاتھ چھوڑ کر سلام کرنا افضل ہے کیونکہ چوتھی تکبیر کے بعد کوئی ذکر مسنون نہیں ہے۔
📖 وهما يخرج الجواب عما سئلت---من انه هل يضع مصلي الجنازة بعد تكبير الاخير من تكبير انه ثم يسلم ام يرسل ثم يسلم وهو انه ليس بعد التكبير الاخير ذكر مسنون وليس فيه الرسال(السعاية:١٥٩/١ بابو صفحة الصلاة)
مزید متعلقہ سوالات
- حضرت نوح (علیہ) اور حضرت لوط (علیہ) کی بیوی نے ایمان لایا تھا یا نہیں؟قران کریم میں ان کی مذمت بیان کی گئی اگر ایمن نہیں لایا تھا تو دونوں پیغمبروں کے نکاح میں کیسے باقی رہے؟
- ریحانہ حضور کی باندی تھی یا زوجہ تھی اس بارے میں وضاحت فرمائیں؟
- ہاتھ پیر کٹے ہوئے لوگ مصنعی ہاتھ پیر لگاتے ہیں تو وضو اور غسل میں ان کو دھونا اور نہ دھونے کے سلسلے میں کیا حکم ہے خود مصنوعی ہاتھ پیر کو دھونے کی ضرورت ہے یا نہیں اگر دوسرا ہاتھ یا پھر صحیح ہے تو اس کو دھونا کافی ہو جائے گا یا نہیں؟
- اگر لڑکا لڑکی فون یا ویڈیو کل کے ذریعہ سے ایجاب و قبول کریں اور مجلس نکاح منعقد نہیں ہے جس میں دو گواہ ایک مجلس میں موجود ہو یا لڑکی کے پاس ایک گواہ ہے اور لڑکے کے پاس ایک گواہ ہے تو نکاح منعقد ہو جائے گا یا نہیں؟ دونوں گواہوں کی مجلس ایک نہیں ہے تو نکاح منعقد ہو جائے گا یا نہیں؟
- ایک شخص (زید نے) عمر سے ایک مکان خریدا خریدار نے کچھ پیسہ ادا کر دیا اور باقی پیسے کے بارے میں جانب ان سے یہ طے ہوا کہ قسطوار ادا کرے گا پیسے والے یہ شرط لگائی کہ سارے پیسے ادا ہونے کے دور مبیع مشتری کے قبضے میں ہو جائے گی اس سے پہلے کسی جانبین اس پر راضی ہو گئے تو کیا یہ مقتضی عقد کے خلاف شرط ہے؟