نماز جنازہ میں تکبیرات کے بعد ہاتھ چھوڑ کر سلام پھیرنا افضل ہے یا ہاتھ باندھ کر؟
الجواب وباللہ التوفیق :- نماز میں چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑ کر سلام پھیرنے اور ہاتھ نہ چھوڑ کر سلام پھیرنے کے بارے میں اقابرین کے مختلف فتاوی ہیں، چنانچہ حضرت مولانا عبدالحئی لکھنوی اور حضرت مفتی عبداللہ لدھیانوی فرماتے ہیں کہ ہاتھ چھوڑ کر سلام کرنا افضل ہے کیونکہ چوتھی تکبیر کے بعد کوئی ذکر مسنون نہیں ہے۔
📖 وهما يخرج الجواب عما سئلت---من انه هل يضع مصلي الجنازة بعد تكبير الاخير من تكبير انه ثم يسلم ام يرسل ثم يسلم وهو انه ليس بعد التكبير الاخير ذكر مسنون وليس فيه الرسال(السعاية:١٥٩/١ بابو صفحة الصلاة)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک شخص نے وصیت کی کہ ان پیسوں کو مسجد میں لگادینا پھر اس کا انتقال ہوگیا تو کیا ان پیسوں کو مدرسہ میں خرچ کرسکتے ہیں ؟
- مسجد میں تعلیم دینے پر استاد کی تنخواہ اور بچوں کی فیس کا شرعی حکم کیا ہے؟
- تراویح میں رکوع یا سجدے کے دوران تلاوت کرنے سے سجدۂ سہو کا کیا حکم ہے؟
- حادثے میں جسم کے ٹکڑے ہوجانے پر میت کو غسل کیسے دیا جائے؟
- ایک شخص کا معمول ٢٠ رجب کو زکوٰۃ نکالنے کا ہے، اس نے ٢٠ تاریخ کو حساب لگا لیا تھا، ابھی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی ٢٦ رجب تک تک اس کے پاس مزید مال آگیا تو اس مزید مال کی زکوٰۃ بھی اِسی سال ادا کرنی ہوگی؟