الجواب:-سات ادمیوں سے زیادہ کی شرکت بڑے جانور میں جائز نہیں ہے پس ایک حصہ جو پانچ ادمی مل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خرید کر قربانی کرنا چاہے تو یہ صورت جائز نہ ہوگی البتہ ایک حصہ میں چند شر کا اپنی اپنی رقم کا مالک اپنے میں سے کسی ایک ادمی کو ذبح کر کے مالک بنا دے اور وہ اپنے قبضہ میں رقم لے کر ایک حصہ لے کر قربانی کر دے تو یہ صورت جائز ہے اگرچہ قربانی ایک ہی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوگے مگر اپنے اپنے رقم ہبہ کرنے والے ثواب سے محروم نہیں ہونگے ۔
📖 واذ مات احد السبعه المشركين في البدنة وقال الورثة ذبحوا عنه وعنكم صح عن الاكل استحسانا لقصد القربه من الاكل--//شامي،ج:٩,ص:٥٣٩, كتاب الاضحيه،اشرفيه،ديوبند
📖 ولو كانت البدنة بين اثنين نصفين تجوز في الاضح لانه لما جاز ثلاثه الاسباع نصف السبع تبعا له--//الهدايه, ج:٤,ص:١٥٩, كتاب الاضحيه البشرى
📖 لانه لما جاز ثلاثة الاسباع اجازه نصف السبع تبعا له لانه ذلك النصف... وان لم يصو اضحية لكنه صوره قربه تبعا للاضحية--//البنايه شرح الهدايه،ج:١١,ص:٢٠, كتاب الاضحية
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص رخصتی سے پہلے کسی بات پر ناراض ہو کر اپنے بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے یا یہ کہے دے کہ تجھ کو تینوں طلاق ہے تو ان دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے دونوں صورتوں میں ایک حکم ہوگا یا الگ الگ اگر ایک ہو تو کیوں اگر الگ الگ ہو تو کیوں مدلل المفصل بیان کریں؟
- وضو کے بعد انجکشن لگوانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
- اغوا کار پکڑا جائے مگر بچہ نہ ملے تو شرعی حکم
- حیض کے درمیان دو دن پاکی کا شرعی حکم
- اپنے زیورات کا دوسرے کے زیورات سے تبادلہ کرنا کیسا ہے؟