رمضان میں عصر کے بعد مسجد میں بیٹھنے کی کوئی خاص فضیلت ہے؟

الجواب وبالله التوفيق: عصر کے بعد مسجد میں ٹھہرنے کے تعلق سے علامہ شمس الدین سرخسی رحمہ اللہ نے “مبسوط سرخسی” میں اور علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی رحمہ اللہ نے “حاشية الطحطاوي” میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جس شخص نے عصر کی نماز پڑھی اور وہ غروبِ شمس تک مسجد میں ٹھہرا گویا اس نے اسماعیل علیہ السّلام کی اولاد میں سے آٹھ غلام آزاد کیے”، تاہم مذکورہ حدیث احادیث کی کس کتاب میں موجود ہے تلاش کے باوجود بندہ کو نہ مل سکی۔

📖 لِأَنَّ الْمُكْثَ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ فِي مَوْضِعِ الصَّلَاةِ مَنْدُوبٌ إِلَيْهِ، قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ وَمَكَثَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ ثَمَانِيَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ». حوالہ: المبسوط للسرخسي، كتاب الصلاة، باب مواقيت الصلاة، ج 1، ص 147، ط: دار المعرفة، بيروت۔

📖 وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ:«مَنْ مَكَثَ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ ثَمَانِيَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ». حوالہ: حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، ص 181–182، ط: دار الكتب العلمية، بيروت۔