جواب:-اس صورت میں وہ شخص جس کے پاس زکوۃ ادا کرنے کے لیے پیسہ نہ ہو تو وہ سونا یا چاندی کی واجب مقدار سونا چاندی ہی زکوۃ میں دے دے کیونکہ پیسوں ہی سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے یا تو وہ چاندی کی کچھ مقدار کسی کے پاس بیچ کر رقم حاصل کریں اور اس کے بعد ادا کر دیں۔فقط واللہ اعلم

📖 وفي كل مائتی درهم خمسة دراهم وكل عشرين مثقالا نصف مثقال...(تاتارخانية:١٥٥/٣ كتاب الزكاة زكريا ديوبند)

📖 في كل مائتى درهم من خمسة اراهم وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال..(هنديه: ٢٤٠/١ كتاب الزكاة الاشرفيه ديوبند)

📖 انه عليه الصلاة والسلام كتب الى معاذ رضي الله عنه :ان خذ من كل مائتی درهم من خمسة دراهم و من كل عشرين مثقالا من ذهب نصف مثقال ( هدايه:١٠٢/١ كتاب الزكاة)

مزید متعلقہ سوالات