الجواب وباللہ التوفیق:-صورت مسئولہ میں عورت حائضہ شمار ہوگی کیونکہ اس کی سابقہ عادت ختم ہونے کے بعد جو دو بارہ حیض آیا ہے وہ 10 دن کے اندر اندر ہے اور دس دن یہ حیض کے اکثر مدت ہے گویا کہ عورت کی عادت عقل مدت سے اکثر مدت کی طرف لوٹ ائی لہذا مذکورہ عورت حائضہ شمار ہوگی-
📖 📖 فان لم يجاوز العشرة فالطهر و الدم كلاهما حيض(فتاوى الهندية:٣٧/١)
📖 📖 إذا عاودها الدم في العشرة بطل الحكم بطهارتها مبتداة كانت أو معتادة وكانها لم تطهر أصلاً (تاتارخانية:٤٨٥/١،رقم: ١٣٠٤،زكريا ديوبند)
📖 📖 واما المعتادة فما زاد على عادتها وتجاوز العشرة حيض والاربعين في النفاس يكون استحاضة(شامي: ٤٧٧/١،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص کسی دوکان سے ادھار سامان خریدے اور قیمت ادا کرنے کی مدت طے نہ کرے بلکہ یوں کہے کہ بعد میں دونگا تو ایسی صورت میں شرعا یہ درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟
- اگر کوئی شخص نماز کے اندر کوئی فرض یا کوئی واجب یا کوئی سنت چھوڑ دے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو سے کام چل جائے گا یا ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے اگر الگ ہے تو ہر ایک کو بیان کریں؟
- غیر کی زمین میں اس غیر کی اجازت کے بغیر طاقت کے بل بونے پر مسجد بنا لی گئی اس میں باضابطہ نماز ہونے لگے جب تک اس غیر کو اس زمین کا معاوضہ ادا نہ کیا جائے تو نماز مکروہ ہوتی رہے گی معاوضہ ادا کرنے کے بعد کراہت ختم ہو جائے گی تو سوال یہ ہے کہ معاوضہ ادا کرنے سے پہلے وہ شرعی مسجد کہاں لی جائے گی یا نہیں؟
- اگر کسی شخص کے پاس دو گاڑیاں موجود ہو تو ان گاڑیوں پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟
- جمعہ کا حکم ہجرت سے پہلے نازل ہوا ہے یا ہجرت کے بعد دلیل سے جواب لکھے اگر جمعہ کا حکم ہجرت سے پہلے نازل ہوا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کیوں قائم نہیں فرمایا؟