الجواب:-صورت مسئولہ میں جب شوہر نے بیوی سے کہا کہ میں نے تمہیں طلاق دے دی اس سے رجعی واقع ہوگی پھر شوہر نے بیوی کے جواب میں کہا تو میرے لیے اور میں تیرے لیے حرام ہوں اس سے بھی ایک طلاق بائن واقع ہوگی(لفظ حرام عرف کی وجہ سے صریح ہو گیا، جیسے لفظ طلاق سے طلاق رجعی بلا نیت واقع ہوتی ہے اسی طرح لفظ حرام سے بھی عرف کی وجہ سے بلا نیت طلاق واقع ہو جائے گی لیکن لفظ حرام کے کنائی ہونے کی وجہ سے بائن واقع ہوگی) کل ملا کر بیوی پر دو طلاق واقع ہو گئی اس کے بعد جو لفظ "نکاح سے خارج کر دیا" سے طلاق واقع نہیں ہوگی بلا نیت کے مگر یہاں نیت کے ساتھ بھی طلاق واقع نہ ہوگی اس لیے کہ اس کو پہلے طلاق بائن پڑ گئی ہے اور "نکاح سے خارج کر دیا" یہ بھی کنائی ہے اس سے بھی طلاق بائن ہوتی ہے اور قاعدہ ہے کہ بائن بائن کے ساتھ لاحق نہیں ہوتی لہذا صورت مسئولہ میں دو طلاق ہوئی اور "نکاح سے خارج کر دیا" اس سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی-

📖 وقوع البائن به بلا نية في زماننا للتعارف، لا فرق في ذلك بين محرمة وحرمتك.... وكل حل علي حرام وانت معي في الحرام.... إذا وقع الطلاق بهذه الالفاظ بلا نية ينبغي أن يكون كالصريح في اعقابه الرجعية واجيب بأن المتعارف أنما هو ابقاع البائن لا لرجعى(شامي: ٥٢٩/٤،كتاب الطلاق، باب الكنايات، زكريا ديوبند)

📖 ولا يلحق البائن (البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في انشاء الطلاق(شامي: ٥٤٢/٥،كتاب الطلاق ،باب الكنايات)

مزید متعلقہ سوالات