جواب:-فضولی کے ذریعہ کیا ہوا نکاح اصیل کی اجازت پر موقوف رہتا ہے جب وہ اجازت دے اور منظور کرے تو نکاح نافذ ہو جاتا ہے اگر اصیل یا جس کو وکیل بنایا وہ اجازت نہ دے اور منظور نہ کرے تو فضولی کے ذریعے کیا ہوا نکاح درست نہیں ہوگا اور منظوری کی دو صورتیں ہیں (1) زبان سے منظور کرنا (2) کوئی ایسا کام کرنا جو شرعا منظوری پر دلالت کرے ـ

📖 ينعقد نكاح الفضولى موقوفا كابيع اذا كان من جانب واحد واما من جانبين او فاضوليا من جانب اصيلا من جانب فلا.... الخ...(كتاب الاختيار لتعليل المختار:١٢٢/٢-١٢٣،كتاب النكاح:مكنبه فقيه الامة ديوبند)

📖 كنكاح الفضولى اي الذي باشره مع اخر اصيل اوولي او وكيل او فضولي.... فانه يتوقف على اجازة الزوج.... سيجي في البيوع لوقف عقوده كلها....(در المختار مع شامي: ٢٢٥/٤ كتاب النكاح ط: زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات