الجواب:-ازدواجي تعلق قائم ہو جانےكي بنا پر جو رشتے حرام ہو جاتے ہیں اس کو حرمت مصاہرت کہتے ہیں اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس کی وجہ سے یہ عورتیں حرام ہو جاتی ہے-مثل: ساس بیوی کی بیٹی جو دوسرے سے ہو اگر وہ اپنے بیوی سے جماع کیا ہو بیٹے کی بیوی پوتے کی بیوی سو تیلی ماں سوتیلی دادی وغیرہ، اور حرمت مصاہرت جس طرح نکاح سے ثابت ہو جاتی ہے اس طرح زنا اور شرائط معتبرہ کے ساتھ دواعی زنا سے بھی ثابت ہو جاتی ہے یا اس عورت کو شہوت کے ساتھ کسی جائل کے بغیر چھولے یا شہوت کے ساتھ اس کی شرمگاہ کے اندرونی حصہ کی طرف دیکھ لے تو حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے یعنی اس عورت کے اصول و فرو ع مرد پر حرام ہو جائیں گے اور اس مرد کے اصول و فروع عورت پر حرام ہو جائیں گے اور اس کے علاوہ چیزوں سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی-

📖 وحرم بالمصاهرة بنت زوجته الموطوءة واما زوجته وجداتها مطلقا بمجرد العقد الصحيح وان لم توطا الزوجه.... وزوجة اصله وفروعه مطلقا.... وحرم الكيل ممامر تحريمه نسبا ومصاهرة رجاعا.... وحرم ايضا بالصهرية اصلي مزنيته..... واصلي ممسوسته بشهوة..........(الدر المختار:١٠٤/٤-١٠٨ كتاب النكاح، زكريا ديوبند)

📖 المصاهرة عند الفقهاء هي حرمة الختونة....( قواعد الفقه:٤٩، باب الميم ،دار الكتاب ديوبند)

📖 وتثبت حرمة المصاهرة بالنكاح الصحيح دون الفاسد..... فمن زني بامراة حرمت عليه امها وان علت وابنتها وان سفلت وكذا تحرم المزني بها على اباء الزاني و اجداده وان علوا...(الهنديه: ٣٣٩/١،كتاب النكاح باب الثالث في بيان المحرمات زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات