جواب:-میقات پانچ ہیں۔۔(1). ذو الحلیفہ: یہ اہل مدینہ اور وہاں سے گزرنے والوں کے لیے میقات ہے (2). جحفہ: اہل شام والوں کے لیے جحفہ ہے-(3). ذات العرق: یہ اہل عراق کے لیے میقات ہے۔(4). قرن المنازل: یہ نجد والوں کےلیے میقات ہے۔(5). یلملم: یہ اہل یمن کے لیے میقات ہے
📖 ا خمسة كذا رومی فی الحدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقت لاهل المدينه ذالحليفة لاهل الشامي الجحفة ولاهل النجد قرن ولاهل اليمن يلملم ولاهل العراق ذات عراق (بدائع :٢٧٠/٢ كتاب الحج زكريا دوبند)
📖 علي بن عباس رضي الله تعالى عنه قال: مقتل رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهل المدينة ذا الحليفة واهل الشامي الجحفة ،ولاهل النجد قرن المنازل، والاهل اليمن يلملم ،فهن لهن ولمن اتي عليهن من غيرهن لمن كان يريد الحج والعمرة فمن كان دونهن فمحلو من اهله وكذلك حتى اهل مكة يهلون منها(خاري شريف ٢٠٦)
📖 عن انس بن مالك رضي الله تعالى عنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم وقت لاهل المدائن الاعقيق ولاهل البصرة ذات عرق ولاهل المدينة ذا الحليفة واهل الشام الجحفة (الطبراني في المعجم الكبير حديث:٧٦١،نجب الافكار:٣٨،حاشية انوار المناسك:٢٤١)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک شخص (زید نے) عمر سے ایک مکان خریدا خریدار نے کچھ پیسہ ادا کر دیا اور باقی پیسے کے بارے میں جانب ان سے یہ طے ہوا کہ قسطوار ادا کرے گا پیسے والے یہ شرط لگائی کہ سارے پیسے ادا ہونے کے دور مبیع مشتری کے قبضے میں ہو جائے گی اس سے پہلے کسی جانبین اس پر راضی ہو گئے تو کیا یہ مقتضی عقد کے خلاف شرط ہے؟
- نکاح کے موقع پر لڑکی سے اجازت لینے کے لیے وکیل گواہان جاتے ہیں تو یہ وکیل پردے میں اجازت لے سکتا ہے نہیں؟ اور وکیل کا محرم ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اسی طرح ٹیلیفون کے ذریعہ سے وکیل بنانے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا ٹیلیفون میں نکاح درست ہو جائے گا؟ اسی طرح ویڈیو کمرہ کے ذریعہ نکاح درست ہو جائے گا یا نہیں؟ جب کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو یہ مجلس واحدہ میں شمار ہے یا نہیں؟
- حافظ قران رمضان کے اخری عشرہ کے اعتکاف میں بیٹھ گیا اور وہ دوسری مسجد میں قران سناتا ہے یا گھر یا حال میں قران سناتا ہے تو قران سنانے کے لیے دوسری مسجد یا گھر یا ہال میں جا سکتا ہے یا نہیں اگر جائے تو ان کا اعتکاف ہو جائے گا ؟
- ایک بچہ کا عقیقہ والے دن نام رکھا گیا اب تین سال بعد نام کے معنی اچھے نہ ہونے کی وجہ سے اس نام کو تبدیل کیا جارہا ہے، تو کیا تبدیل کرسکتے ہیں؟؟
- بعض روایات کے پیش نظر حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مشروع معلوم نہیں ہوتی اور امام صاحب کا موقف کیا ہے اور صحیح مسئلہ کیا ہے کہ عقیقہ مسنون ہے یا نہیں؟ اس پر دلائل اور خصوص کیا ہے؟ کتنے دنوں کے بعد عقیقہ کرنا مسنون ہے اس بات کو بھی واضح کر دے؟