جواب:-اگر مال حرم سے حج کرنا درست نہیں ہے پھر بھی کوئی مالے حرم سے حج کر لے تو اس کے ذمہ سے فرضیت ساقت ہو جائے گا لیکن گنہگار ہوگا کیونکہ مال حرام سے حج کرنا حرام ہے اور اس سے حج مقبول نہیں ہوتا ہے اور ثواب بھی نہیں ملتا ہے اس شخص کو چاہیے کہ کسی سے قرض لے کر حج کرنے جائے اور واپسی کے بعد جائز طریقے سے حلال روزی کما کر اس سے قرض ادا کرے تو حج مقبول بھی ہو جائے گا اور گناہ کا ارتکاب بھی نہ ہوگا البتہ اگر مال حرام سے حج کر لیا تو بعد میں توبہ کر لے اور اگر کسی کا حق لے رکھا ہو تو اس کو واپس کر دے۔فقط واللہ اعلم ۔

📖 قوله: الحج بمال حرام...... بالحج رياء وسمعة ان الحج نفسه الذي هو زيارة مكان مخصوص الى الآخ.. ليس حرام ويل الحرام هو انفاق اطال الحرام ولا تلازم بينهما ..... مع انه يسقط الفرض عنه معها .....فلا يثاب لعدم القبول(شامي: ٥١٩/٣ اشرفيه دوبند)

📖 ويجتهد في تحصيل نفقة حلال فانه حلال وانه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث مع انه يسقط الفرض عنه مع ولا تنافي بين سقوطه وعدم قبوله ولا يثاب لعدم القبول ولا يعاقب ترك الحج(شامي: ٤٥٣/٣ زكريا ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات