جواب:-ولیمہ کرنا شرعا سنت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس میں اپنی وسعت کے مطابق ریا و نمود سے بچتے ہوئے احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلانا چاہیے اور اس کے لیے افضل وقت رخصتی کے بعد ہے کسی مصلحت کے پیش نظر دو چار دن بعد بھی ولیمہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اتنی تاخیر نہ ہوں کہ بشاشت نکاح باقی نہ رہے-
📖 عن انس بن مالك ان النبي صلى الله عليه وسلم راى على عبد الرحمن بن عوف اثر صفرة فقال ما هذا قال اني تزوجت امراة على وزن نواة من ذهب قال بارك الله لك او لم ولو بشاة(صحيح البخاري: ١٩٨٢/٥،رقم الحديث: ٤٨٧،باب الوليمة الحق)
📖 ووليمة العرس سنة وهي مثوبة عظيمة وهي.. بني الرجل بامراة ينبغي ان يدعو الجيران والاقرباء والاصدقاء...(الهنديه: ٣٤٢/٥ كتاب النكاح زكريا ديوبند)
📖 وحديث انس في هذا الباب صريح في انها اي الوليمة بعد الدخول لقوله فيه اصبح عروسا بزينب فرعا القوم......(اعلاء السنن:١٦/١١-١٧ دار الكتب العلمية بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟