الجواب وبالله التوفيق: جس طرح زبان سے بولنے سے طلاق ہوجاتی ہے، اسی طرح طلاق کا تحریری میسیج بھیجنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے؛ لہذا مذکورہ صورت میں شوہر نے اپنی بیوی کو واٹس ایپ پر ٹائیپنگ کے دوران تین طلاقیں دے دیں، تو اس سے شرعی طور پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ اب آئندہ بغیر حلالہ دونوں کے درمیان نکاح بھی درست نہ ہوگا۔(المسائل المهمة فيما ابتلت به العامة، ٢١١/٧، ط: اکل کوا) (ارشاد السائلین، ٣٠٨/٢، ط: لال باغ مرادآباد)
📖 ثم المرسومة لا تخلوا إما أن أرسل الطلاق بأن کتب أما بعد فأنت طالق فكما كتب هذا یقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. (الفتاوی الهندية/كتاب الطلاق/الفصل السادس: في الطلاق بالكتابة، ٤١٤/١، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- انگلینڈ سے آنے والے دبیز سوتی موزوں پر مسح کا حکم-
- جمائی لیتے وقت لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنے کا حکم
- ایک لڑکی کا نکاح ہو گیا تھا لیکن رخصتی ابھی باقی تھی یعنی خلوت نہیں ہوئی تھی۔ اسی دوران اس لڑکی کے کسی دوسرے لڑکے سے ناجائز تعلقات ہو گئے اور وہ حاملہ ہو گئ۔ گھر والے اس بات پر متفق ہوئے کہ اس کے شوہر سے طلاق لے کر اس کا نکاح اسی لڑکے سے کر دیا جائے جس سے حمل ہوا ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس لڑکی کا اپنے شوہر سے طلاق اور دوسرے لڑکے سے نکاح کی کیا صورت ہوگی ؟
- اگر کوئی شخص رخصتی سے پہلے کسی بات پر ناراض ہو کر اپنے بیوی سے یہ کہے کہ تجھ کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے یا یہ کہے دے کہ تجھ کو تینوں طلاق ہے تو ان دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے دونوں صورتوں میں ایک حکم ہوگا یا الگ الگ اگر ایک ہو تو کیوں اگر الگ الگ ہو تو کیوں مدلل المفصل بیان کریں؟
- وضو کے بعد انجکشن لگوانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟