جواب:-کوئی شخص ایام حج میں حرمین پہنچ جائے تو اس پر حج فرض ہے بشرط کہ حج قریب ہو اور نہ اس پر فرض نہیں ہے یہ اس صورت میں ہے جبکہ یہ شخص فقیر ہو اور اگر مالدار ہو تو اس پر حج فرض ہے مطلقا خواہ حرمین پہنچے یا نہ پہنچے ۔فقط واللہ اعلم ۔
📖 الفقير الآفاقي إذا وصل إلى الميقات فهو كالمكي. (الدر المختار مع رد المحتار، 3/459، كتاب الحج، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 فإذا بلغ مكة فهو يملك منافع بدنه، فقد قدر على الحج بالمسمّى، وقيل: زاد، فوجب عليه الحج، فإذا ... وقع عن حجة الإسلام. (بدائع الصنائع، 2/294، كتاب الحج، مكتبة أشرفية، ديوبند)
📖 الفقير الآفاقي إذا وصل إلى الميقات صار كالمكي، هل يجب عليه ... إذا لم يقدر على الراحلة؟ (غنية الناسك، مكتبة أشرفية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک شخص نے قربانی میں ایک بھینس خریدی بعد میں پاتا چلا کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے تو اس بھینس کی قربانی جائز ہے یا نہیں نیز قربانی کے بعد بھینس کے پیٹ سے اگر بچہ نکلے تو اس کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
- سعی کا شرعی طریقہ مرد اور عورت کے لیے کیا ہے
- قربانی میں تمام شرکاء کے نام لینا ضروری ہے یا نہیں
- عورت کے زیورات کی زکوۃ شوہر دے گا یا بیوی
- اذان سے پہلے ظہر کی سنت پڑھنے سے سنت ادا ہونے کا حکم