الجواب :-اگر باقی شرکا کو اس شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ گوشت کھانے کی نیت سے قربانی کر رہا ہے تو کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی اور اگر اس شخص کی نیت کے بارے میں باقی شرکاء کو معلوم نہ ہو تو اس شخص کے علاوہ باقی کے قربانی درست ہو جائے گا کیونکہ وہ لوگ بے قصور ہیں-

📖 وَإِنْ كَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ صَبِيًّا، أَوْ كَانَ شَرِيكُ السُّبُعِ مِمَّنْ يُرِيدُ اللَّحْمَ، أَوْ كَانَ نَصْرَانِيًّا وَنَحْوَ ذَلِكَ، لَا يَجُوزُ لِلْآخَرِينَ أَيْضًا، كَذَا فِي «السِّلَاحِيَّةِ الْهِنْدِيَّةِ». حوالہ: الفتاوى الهندية، ج ٥، ص ٣٥١، كتاب الأضحية، ط: زكريا ديوبند۔

📖 قَدْ عُلِمَ أَنَّ الشَّرْطَ قَصْدُ الْقُرْبَةِ مِنَ الْأَكْلِ. حوالہ: رد المحتار، ج ٩، ص ٤٧٦، كتاب الأضحية، ط: زكريا ديوبند۔

📖 وَإِنْ كَانَ شَرِيكًا لِسِتَّةٍ بِنَصْرَانِيٍّ يُرِيدُ اللَّحْمَ، لَمْ تَجُزْ عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمْ. وَجْهُ الْفَرْقِ: تَجُوزُ عَنْ سَبْعَةٍ بِشَرْطِ قَصْدِ الْأَكْلِ وَالْقُرْبَةِ...حوالہ: البحر الرائق، ج ٨، ص ٢٠٢، كتاب الأضحية، وكذا في مجموع الأنهر۔

مزید متعلقہ سوالات