جواب:-بوسہ لینا پتھروں کو چومنا نہیں ہے کیونکہ حجر اسود کو بوسہ لینا یہ محبت کی طور پر لیا جاتا ہے نہ کہ عبادت کے طور پر ۔فقط واللہ اعلم
📖 عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه قبَّل الحجر، وقال: «إني لأقبِّلك، وإني لأعلم أنك حجر، ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبِّلك ما قبَّلتك». (سنن ابن ماجه، رقم الحديث: 2942)
📖 عن عمر رضي الله عنه أنه جاء إلى الحجر فقبَّله، فقال: «إني أعلم أنك حجر، لا تنفع ولا تضر...»(سنن أبي داود، رقم الحديث: 1873، كتاب الحج)
مزید متعلقہ سوالات
- پرانے اور پھٹے نوٹ کم قیمت پر بیچنا یا بدلنا جائز ہے یا نہیں
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم