ہندو لڑکی نے شادی کے لیے کلمہ پڑھا پھر طلاق ہوگئی، دوبارہ نکاح کا حکم
الجواب وبالله التوفيق: مذکورہ صورت میں اگر واقعۃً لڑکی نے صرف شادی کی غرض سے زبان سے کلمہ پڑھا تھا اور دل سے اسلام اور رسالتِ محمدی ﷺ کی تصدیق نہیں کی تھی، تو شرعی اعتبار سے اس کا ایمان معتبر نہیں ہوا؛ کیونکہ ایمان کے لیے دل سے تصدیق ضروری ہے۔ علامہ سعد الدین تفتازانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فاعلم أن الإيمان في الشرع هو التصديق بما جاء به من عند الله تعالى، أي تصديق النبي بالقلب في جميع ما علم بالضرورة مجيئه به من عند الله تعالى إجمالاً... (شرح العقائد النسفیہ، ص 119، مکتبہ بلال دیوبند) لہٰذا اگر نکاح کے وقت بھی اس کی یہی کیفیت تھی کہ اس نے محض شادی کے لیے ظاہری طور پر کلمہ پڑھا تھا اور دل سے اسلام کو قبول نہیں کیا تھا، تو وہ شرعاً مسلمانہ نہیں ہوئی، اور مسلمان مرد کے ساتھ اس کا نکاح شرعی طور پر منعقد نہیں ہوا۔ اور اگر بالفرض نکاح کے وقت وہ حقیقتاً مسلمان تھی، پھر نکاح کے بعد مرتد ہوگئی، تو ارتداد کے وقت نکاح کے حکم کو دیکھا جائے گا؛ کیونکہ نکاح کے ختم ہونے کے بعد دی گئی طلاق کا حکم الگ ہوگا، اور اگر طلاق کے وقت نکاح باقی نہ رہا ہو تو طلاق کا محل موجود نہیں ہوگا۔ لہٰذا موجودہ صورت میں اگر دونوں دوبارہ ازدواجی زندگی اختیار کرنا چاہتے ہیں تو لڑکی کے لیے ضروری ہے کہ وہ دل سے اسلام کو قبول کرے، توحید و رسالت پر یقین کرے اور زبان سے کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو، اس کے بعد نئے سرے سے شرعی طریقے کے مطابق نکاح کیا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ نکاح سے قبل لڑکی کو اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروری احکام سمجھا دیے جائیں اور اس کے اطمینان و قبولِ اسلام کے بعد نکاح کیا جائے۔ واللہ أعلم بالصواب
📖 فاعلم أن الإيمان في الشرع هو التصديق بما جاء به من عند الله تعالى، أي تصديق النبي بالقلب في جميع ما علم بالضرورة مجيئه به من عند الله تعالى إجمالاً، فإنه كاف في الخروج عن عهدة الإيمان... فالمشرك المصدق بوجود الصانع وصفاته لا يكون مؤمناً إلا بحسب اللغة دون الشرع... (شرح العقائد النسفية، ص 119، مكتبة بلال، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- نکاح کے لیے اسلام قبول کرنے والے شخص کا نکاح صحیح ہوگا؟
- کیا خودکشی کرنے والے کی روح معلق رہتی ہے؟
- قعدۂ اخیرہ چھوڑ کر پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے نماز صحیح ہوگی؟
- ایک شخص پر ٥ رمضان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۵ رمضان میں وہ دو لاکھ کا مالک ہے اس کے بعد اس کے پاس مال میں اور اضافہ ہوا تقریباً دس لاکھ کا مالک ہوگیا اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس اضافی رقم کی زکوۃ کب نکالی جائے گی ؟
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟