الجواب:-جن عورتوں سے نکاح کرنا درست نہیں ہے وہ درج ذیل ہیں(1) ماں، چاہے حقیقی ہو یا سوتلی اس طرح نانی اور دادی(2) بیٹی پوتی اور نواسی(3) بہن ،چاہے حقیقی ہو یا سوتیلی یعنی ماں شریک ہو یا باپ شریک(4) پھوپھی والد کی بہن چاہے سگی ہو یا سوتیلی(5) خالہ چاہے سگی ہو یا سوتیلی (6)بھتیجی (7)بھانجی (8)رضاعی ماں (9)رضاعی بہن(10) رضاعی پھوپھی(11) رضاعی خالہ (12)رضاعی بھتیجی(13) رضاعی بھانجی(14) بہو یعنی بیٹے کی بیوی(15) دو بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرنا مذکورہ بالا محرمات کے علاوہ اور بھی کئی ایسی عورتیں ہیں جن سے نکاح حرام ہوتا ہے مثلا بیوی کے انتقال یا طلاق کے بعد عدت میں بیوی کے بہن یعنی سالی اس کی خالہ بھانجی وغیرہ اور مذکورہ بالا عورتوں کے علاوہ عورتوں سے نکاح کرنا درست ہے مثلا چچا کی بیٹی ،خالہ کی بیٹی ،ماموں کی بیٹی وغیرہ-فقط اللہ اعلم
📖 حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ...(سورة النساء، الآية: 23)
📖 قال: لا يحلُّ للرجل أن يتزوج بأمِّه، ولا بجدَّاته من قِبَل الرجال والنساء، ولا بابنته ولا ببنات ولده وإن سفلن، للإجماع، ولا بأخته، ولا ببنات أخته، ولا ببنات أخيه، ولا بعمته... إلخ.(الهداية، 2/329، كتاب النكاح، زمزم، ديوبند)
📖 وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ... (سورة النساء، الآية: 24)