میں نے تجھے چھوڑ دیا کہنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟شوہر کہتا ہے کہ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ان الفاظ کے ذریعے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:-حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ احکام شرح میں کسی چیز کا نہ جاننا عذر نہیں ہے لہذا طلاق کے سلسلے میں بھی نہ جاننا عذر نہیں مانا جائے گا لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاق واقع ہو کر عورت شوہر کے لیے حرام ہو جائے گی، تاہم کابرین میں سے بعض نے دیانت پر اور بعض نے فقہاء پر فتوی دیا ہے مثلاً :فتوی محمودیہ میں دیانت پر فتوی دیا ہے، جبکہ فتاوی دارالعلوم اور امداد الفتاوی میں فقہا پر فتاوی دیا ہے-(المستفاد: فتاوى محمودية:١٨٧/١٢،فتاوى دار العلوم: ٩٩/٩،امداد الفتاوى: ١٩٣/٥)
📖 وإذا قال الرجل لامرأته: أنتِ طالق، ولا يعلم معنى قوله: أنتِ طالق، وأنه طلاق، طلقت في القضاء، ولا تطلق فيما بينه وبين الله تعالى، هكذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية، الطبعة الجديدة، 1/420، كتاب الطلاق، فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟