جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑا ہونے پر قادر نہ ہو، یا کھڑا ہونے پر قادر ہو لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرنے سے عاجز ہو، یا قیام اور سجدہ کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں بیماری بڑھنے، صحت یابی میں تاخیر ہونے یا ناقابلِ برداشت تکلیف ہونے کا غالب گمان ہو، تو ایسی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔
البتہ محض معمولی قابلِ برداشت درد یا فرضی تکلیف کی وجہ سے فرض نماز میں قیام ترک کرکے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔
اسی طرح جو شخص فرض نماز میں پورے وقت کھڑا رہنے پر قادر نہ ہو، لیکن کچھ وقت کھڑا ہوسکتا ہو اور زمین پر سجدہ بھی کرسکتا ہو، تو جتنی دیر کھڑے ہونے کی استطاعت ہو اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے، خواہ کسی چیز کا سہارا لے کر ہی کیوں نہ کھڑا ہونا پڑے۔ اس کے بعد باقی نماز زمین پر بیٹھ کر ادا کرے۔
اور اگر وہ زمین پر سجدہ کرنے سے عاجز ہو تو ایسی صورت میں وہ شروع ہی سے زمین پر یا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس حالت میں نماز اشارے سے ادا کی جائے گی۔ اشارے سے نماز پڑھنے والے کے لیے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت یا طریقہ مقرر نہیں ہے؛ وہ اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی طرح بیٹھ کر اشارے سے نماز ادا کرسکتا ہے، خواہ زمین پر بیٹھ کر پڑھے یا کرسی پر۔
البتہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ لہٰذا جو لوگ زمین پر بیٹھ سکتے ہوں، انہیں زمین پر بیٹھ کر ہی نماز ادا کرنی چاہیے۔ لیکن اگر زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے میں دشواری ہو تو وہ کرسی پر بیٹھ کر فرض، وتر اور سنت تمام نمازیں ادا کرسکتے ہیں۔
قیام (ہاتھ باندھنے کا طریقہ):
جو شخص اشارے سے نماز پڑھ رہا ہو، وہ بیٹھے ہوئے معمول کے طریقے کے مطابق ہاتھ باندھے گا۔
رکوع اور سجدہ:
سجدہ کرتے وقت رکوع کی نسبت سر کو کچھ زیادہ جھکایا جائے، یعنی رکوع کے لیے سر قدرے جھکایا جائے اور سجدے کے لیے اس سے زیادہ جھکایا جائے۔
بہت سے لوگ رکوع کے وقت ہاتھوں کو معمول کی حالت میں رکھتے ہیں، لیکن سجدے کا اشارہ کرتے وقت ہاتھ آگے بڑھا دیتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ طریقہ درست نہیں۔ ہاتھ اپنی جگہ پر یعنی رانوں پر ہی رہیں گے، خواہ رکوع کا اشارہ کیا جائے یا سجدے کا۔ اشارہ صرف سر کے ذریعے کیا جائے گا۔
تشہد (التحیات):
تشہد بھی معمول کے مطابق پڑھا جائے۔ اگر زمین پر بیٹھتے ہوئے نماز کے تشہد والی ہیئت میں بیٹھنا دشوار ہو تو جس طرح آسانی ہو، مثلاً گھٹنوں کے بل، پالتی مار کر یا ٹانگیں پھیلا کر، اپنی سہولت کے مطابق بیٹھ سکتا ہے۔
📖 وَيُصَلِّي الْمَرِيضُ قَاعِدًا إِذَا عَجَزَ عَنِ الْقِيَامِ، وَإِنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ وَلَا يَقْدِرُ عَلَى السُّجُودِ صَلَّى قَاعِدًا بِالْإِيمَاءِ. (رد المحتار على الدر المختار، 2/96)
📖 وَإِنْ عَجَزَ عَنِ الْقِيَامِ صَلَّى قَاعِدًا، وَيُومِئُ لِلرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ. (الفتاوى الهندية، 1/136)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص دور دراز شہروں کا سفر کر لے یا اکثر مومالک کا دوراہ کر لے لیکن وہ بغیر کسی نیت کے سفر کر رہا ہو تو ایسی شخص کا شرعا کیا حکم ہے
- اذان-کے-بعد-درود-و-سلام-ثابت-ہے-یا-نہیں
- اگر کوئی شخص اونچی چیز پر یا نیچی چیز پر نماز پڑھے تو اس کے سامنے سے گزرنے کا شرعا کیا حکم ے؟
- نماز کی حالت میں موبائل جیب سے نکال کر گھنٹی بند کرنے کا کیا حکم ہے
- ایک چھوٹی سی نالی ہے اس میں پانی جا رہی ہے اس نالی میں ناپاکی بھی پڑ جاتی ہے تو اس جاری پانی میں ناپاکی گر جانے کے بعد رنگ اور بو اور ذائقہ نہ بدلے پانی کی طبیعت میں صاف ستھرا ہے تو پانی کو پاک سمجھا جائے گا یا نہیں اگر پاک سمجھا جائے گا تو پاکی کی علامت کیا ہے؟ دونوں مسئلے متعدد کتابوں کے حوالہ سے مدلل کر کے واضح فرمائیے؟