الجواب:-فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان اور اقامت کہنا سنت ہے یہ اس وقت ہے جب کہ فوت شدہ نماز مسجد میں نہ پڑھ رہے ہو چاہے جماعت کے ساتھ پڑھ رہے ہو یا تنہا پڑھ رہے ہوں نیز اگر کوئی مسجد میں قضا نماز پڑھ رہے ہو تو اس کے لیے اذان و اقامت کہنا مسنون نہیں ہے بلکہ مکروہ ہے-

📖 وَيُؤَذَّنُ ثَانِيًا بَيْنَ يَدَيْهِ، أَيْ الْخَطِيبِ، أَيْ عَلَى سَبِيلِ السُّنِّيَّةِ، كَمَا يَظْهَرُ مِنْ كَلَامِهِمْ، إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَإِذَا أُقِيمَتْ أُقِيمَتْ... حوالہ: رد المحتار مع الدر المختار، ج 3، ص 38–39، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ط: زکریا، دیوبند۔

📖 وَمَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةٌ فِي وَقْتِهَا فَقَضَاهَا، أَذَّنَ لَهَا وَأَقَامَ، وَاحِدًا كَانَ أَوْ جَمَاعَةً، هَكَذَا فِي الْمُحِيطِ...حوالہ: الفتاوى الهندية، ج 1، ص 111، كتاب الصلاة، ط: اشرفیہ، دیوبند۔

📖 وَمَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةٌ عَنْ وَقْتِهَا فَقَضَاهَا فِي وَقْتٍ آخَرَ، أَذَّنَ لَهَا وَأَقَامَ، وَاحِدًا كَانَ أَوْ جَمَاعَةً...حوالہ: الفتاوى التاتارخانية، ج 2، ص 150، كتاب الصلاة، ط: زکریا، دیوبند۔

مزید متعلقہ سوالات