مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز باجماعت پڑھنے کا حکم
الجواب:-جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت موکدہ ہے بلا عذر مرد کا گھر میں نماز پڑھنے کی عادت بنا لینا گناہ ہے لہذا مسجد میں ہی جماعت سے نماز ادا کرنا چاہیے البتہ اگر کبھی عذر کی وجہ سے جماعت رہ جائے یا جھوڑنے کا معتبر عذر ہو مثلاً بیماری وغیرہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے میں حرج نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں جو ثواب ہے وہ گھر میں پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا ہے-فقط واللہ اعلم
📖 قومٌ تخلَّفوا عن المسجد وصلَّوا في البيت بجماعة، فإنهم ينالون فضلَ الجماعة، ولكن دون ما ينالون في المسجد. حوالہ: الفتاوى السراجية، كتاب الصلاة، باب الصلاة بالجماعة، ص 97، طبع زمزم
📖 والصلاة بالجماعة سنة مؤكدة، في مسجد أو غيره، وفي القنية: الأصح أن إقامتها في البيت كإقامتها في المسجد، وإن تفاوتت الفضيلة. حوالہ: حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص 286، كتاب الصلاة، باب الإمامة، اشرفية ديوبند۔
📖 قوله: في مسجد او غيره قال في القنية واختلف العلماء في اقامتها في البيت والاصح انها كاقامتها في المسجد الا في الافضلية....(الدر المختار مع الشامي: ٢٩٠/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- عورت کو لیکوریا (سیلانِ رحم) کی بیماری ہو تو طہارت اور نماز کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص وضو اور غسل کرنے پر قادر نہ ہو تو شرعا کیا حکم ہے؟
- استنجاء کا مسنون طریقہ کیا ہے وضاحت بیان کریں؟
- ایک شخص تہجد کے وقت اٹھا اس نے وضو کرکے دورکعت نفل نماز پڑھی نماز سے فارغ ہونے بعد پتہ چلا کہ فجر کا وقت شروع ہوچکا کافی دیر پہلے اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ دو رکعت فجر کی سنتوں کے قائم مقام ہوں جائیں گی یا نہیں ؟
- اولاد کو والدین سے پہلے حج کرنا درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں؟