الجواب:-جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت موکدہ ہے بلا عذر مرد کا گھر میں نماز پڑھنے کی عادت بنا لینا گناہ ہے لہذا مسجد میں ہی جماعت سے نماز ادا کرنا چاہیے البتہ اگر کبھی عذر کی وجہ سے جماعت رہ جائے یا جھوڑنے کا معتبر عذر ہو مثلاً بیماری وغیرہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے میں حرج نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں جو ثواب ہے وہ گھر میں پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا ہے-فقط واللہ اعلم
📖 قومٌ تخلَّفوا عن المسجد وصلَّوا في البيت بجماعة، فإنهم ينالون فضلَ الجماعة، ولكن دون ما ينالون في المسجد. حوالہ: الفتاوى السراجية، كتاب الصلاة، باب الصلاة بالجماعة، ص 97، طبع زمزم
📖 والصلاة بالجماعة سنة مؤكدة، في مسجد أو غيره، وفي القنية: الأصح أن إقامتها في البيت كإقامتها في المسجد، وإن تفاوتت الفضيلة. حوالہ: حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص 286، كتاب الصلاة، باب الإمامة، اشرفية ديوبند۔
📖 قوله: في مسجد او غيره قال في القنية واختلف العلماء في اقامتها في البيت والاصح انها كاقامتها في المسجد الا في الافضلية....(الدر المختار مع الشامي: ٢٩٠/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک شخص موبائل کی کمپنی کا مالک ہے اور اس کی ماتحتی میں مزدور کام کرتے ہیں اور کمپنی کا قانون یہ ہے اگر کوئی مزدور ایک دن کی بھی چھٹی کرتا ہے تو کمپنی ٥٠٠ روپیے کاٹ لیتی ہے جبکہ اسکی مزدوری ایک دن کی ٤٨٤ بیٹھتے ہیں، اور اسی طرح اگر کوئی مزدور دس دن کام کرکے چھوڑ دیتا ہے تو کمپنی اس کو دس دن کی مزدوری نہیں دیتی تاکہ مزدور چھٹی نہ کرے تو کیا اس طرح کا عمل جائز ہے یا نہیں ؟؟
- نفل نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو اور نماز کا حکم
- ناپاک آدمی کا لعاب دہن پسینہ پاک ہے یا ناپاک؟
- تکبیرِ اقامت کے لیے کوئی جگہ متعین ہے یا نہیں
- مدت رضاعت کیا ہے اگر اس میں کوئی اختلاف ہو تو اس کی بھی وضاحت کریں؟