الجواب:-اگر امام سامنے یعنی محراب کی طرف سے مصلہ پر ائے تو مقتدیوں کو امام کو دیکھتے ہی کھڑے ہو جانا چاہیے اور اگر پیچھے کی طرف سے آرہا ہو تو جس صف کے پاس سے امام گزرے وہ صف والوں کو کھڑا ہو جانا چاہیے لیکن اگر امام پہلے سے ہی اپنی جگہ پر موجود ہو تو اقامت کے شروع ہوتے ہی امام اور مقتدیوں کو کھڑے ہو جانا چاہیے تاکہ نماز شروع ہونے سے پہلے صفیں سیدھی ہو جائے کسی خاص کلمہ پر کھڑا ہونا ضروری نہیں ہے اگرچہ بعض روایات میں حی علی الصلاۃ کے وقت کھڑا ہونے کا ذکر ملتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد بھی بیٹھے نہ رہے یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے پہلے کھڑا نہ ہو لہذا اس سے پہلے کھڑے ہونے میں کچھ حرج نہیں ہے-

📖 دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، قَعَدَ إِلَى قِيَامِ الْإِمَامِ فِي مُصَلَّاهُ... وَيُكْرَهُ لَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي مَسْجِدَيْنِ، وَلِايَةُ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ لِبَانِي الْمَسْجِدِ مُطْلَقًا... وَالْأَفْضَلُ كَوْنُ الْإِمَامِ هُوَ الْمُؤَذِّنَ... وَيُكْرَهُ لَهُ الِانْتِظَارُ قَائِمًا... حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ انْتَهَى... حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، ج 2، ص 71، كتاب الصلاة، باب الأذان، ط: زکریا، دیوبند۔

📖 فَأَمَّا إِذَا كَانَ الْإِمَامُ خَارِجَ الْمَسْجِدِ، فَإِنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ مِنْ قِبَلِ الصُّفُوفِ، فَكُلَّمَا جَاوَزَ صَفًّا قَامَ ذَلِكَ الصَّفُّ، وَإِلَيْهِ مَالَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ الْحَوَانِيُّ. وَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ مِنْ قُدَّامِهِمْ، يَقُومُونَ إِذَا رَأَوُا الْإِمَامَ. حوالہ: الفتاوى الهندية، ج 1، ص 114، كتاب الصلاة، ط: زکریا، دیوبند۔

📖 قوله: والقيام الامام ومؤتم.... مسارعة لا متثال أمره والطاهر انه احتراز عن التأخير لا التقديم حتى لو قام او7ل الاقامة لا باس....(حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ١٦/٢،كتاب الصلاة ،بيروت)

مزید متعلقہ سوالات