مقتدی کو اقامت کے وقت کب کھڑا ہونا چاہیے
📖 دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، قَعَدَ إِلَى قِيَامِ الْإِمَامِ فِي مُصَلَّاهُ... وَيُكْرَهُ لَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي مَسْجِدَيْنِ، وَلِايَةُ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ لِبَانِي الْمَسْجِدِ مُطْلَقًا... وَالْأَفْضَلُ كَوْنُ الْإِمَامِ هُوَ الْمُؤَذِّنَ... وَيُكْرَهُ لَهُ الِانْتِظَارُ قَائِمًا... حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ انْتَهَى... حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، ج 2، ص 71، كتاب الصلاة، باب الأذان، ط: زکریا، دیوبند۔
📖 فَأَمَّا إِذَا كَانَ الْإِمَامُ خَارِجَ الْمَسْجِدِ، فَإِنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ مِنْ قِبَلِ الصُّفُوفِ، فَكُلَّمَا جَاوَزَ صَفًّا قَامَ ذَلِكَ الصَّفُّ، وَإِلَيْهِ مَالَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ الْحَوَانِيُّ. وَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ مِنْ قُدَّامِهِمْ، يَقُومُونَ إِذَا رَأَوُا الْإِمَامَ. حوالہ: الفتاوى الهندية، ج 1، ص 114، كتاب الصلاة، ط: زکریا، دیوبند۔
📖 قوله: والقيام الامام ومؤتم.... مسارعة لا متثال أمره والطاهر انه احتراز عن التأخير لا التقديم حتى لو قام او7ل الاقامة لا باس....(حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ١٦/٢،كتاب الصلاة ،بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- خیار شرط کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص طواف زیارت کے بغیر وطن واپس آ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- نئی دلی اسٹیشن میں انگریزوں کے زمانے سے ایک مسجد بنی ہوئی ہے اس میں باضابطہ امام و مؤذن ہے سرکار یہ چاہتی ہے کہ اس مسجد کو مسمار کر کے اس کے بدلے میں مسلمانوں کی پسندیدہ جگہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کر کے دینا چاہتی ہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی ؟
- اگر کسی ٹنکی میں کوئی پرندہ گر جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- تیمم کا مسنون طریقہ کیا ہے ترتیب وار مکمل بیان کریں؟