الجواب:-اس صورت میں اگر بار بار بھولنے کی شکل پیش آتی ہے تو غالب ظن اور یقین پر عمل کرتے ہوئے کم سے کم رکعت پر بنا کرنی چاہیے اور آخر میں سجدہ سہو کر لینا چاہیے اور جب سجدہ سہو کر لیا اب نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں چاہے نماز فرض ہو یا سنت سب برابر البتہ اگر کسی شخص کو پہلی مرتبہ یا کبھی کبھی ایسا شک ہوتا ہے اسے چاہیے کہ نیت توڑ کر پھر سے نماز پڑھے تاکہ کوئی شک شبہ نہ رہے-

📖 **وَاعْلَمْ أَنَّهُ إِذْ شَغَلَهُ ذَلِكَ الشَّكُّ فَتَفَكَّرَ قَدْرَ أَدَاءِ رُكْنٍ، وَلَمْ يَشْتَغِلْ بِصُوَرِ الشَّكِّ...حوالہ:** *رد المحتار على الدر المختار*، ج 2، ص 562–563، كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ط: زكريا، ديوبند۔

📖 وَإِنْ كَثُرَ الشَّكُّ تَحَرَّى وَعَمِلَ بِغَالِبِ ظَنِّهِ، فَإِنْ لَمْ يَغْلِبْ لَهُ ظَنٌّ أَخَذَ بِالْأَقَلِّ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ وَاحِدَةً صَلَّى أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَلْيَبْنِ عَلَى وَاحِدَةٍ، وَإِنْ لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا، فَلْيَبْنِ عَلَى ثِنْتَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَبْنِ عَلَى ثَلَاثٍ، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ». وَقَعَدَ وَتَشَهَّدَ بَعْدَ كُلِّ رَكْعَةٍ ظَنَّهَا آخِرَ صَلَاتِهِ...حوالہ: حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 477۔

📖 **وَذُكِرَ فِي الْفَتَاوَى الْخَاقَانِيَّةِ، فَقَالَ: رَجُلٌ صَلَّى وَلَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، قَالَ: إِنْ كَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ مَا سَهَا، اسْتَقْبَلَ...**حوالہ:** *حلبي كبير*، ص 470۔

مزید متعلقہ سوالات