رکوع میں امام کو پانے والے مقتدی کی تکبیر تحریمہ کا حکم
الجواب:-اس حالت میں وہ شخص تکبیر تحریمہ کہکر ہاتھ باندے قیام کے بعد رکوع میں جائے گا اس کے علاوہ وہ شخص جلدی باری میں رکوع یا رکوع کے قریب پہنچ کر تکبیر تحریمہ کہی تو اس کی نماز شروع نہیں ہوئی اس لیے کہ تکبیر تحریمہ بحالت قیام کہنا فرض ہے رکوع کے حالت میں کہی گئی تکبیر تحریمہ کا اعتبار نہیں اس کا حکم از سرنو حالت قیام میں تکبیر کہے اور اگر رکعت چھوٹ جائے تو بعد میں اس کی قضا کرے۔
📖 ترك السنة لا يوجب فسادا ولا سهوا بل اساءة لو عامدا غير مستخف... (رد المختار: ١٧٠/٢،كتاب الصلاة ،باب صفة الصلاة، زكريا ديوبند)
📖 ورفع اليدين عند تكبيرة الافتتاح الصحيح انه سنة فإن ترك رفع اليدين يأثم وقال بعضهم لا يأثم وقدروى عن ابي حنيفة ما يدل على هذا القول فإنه قال ان ترك رفع اليدين جاز وان رفع فهو افضل(الفتاوى التاتارخانية: ٤٨/٢،کتاب الصلاۃ، الفصل ثانی تکبیرة الافتتاح زكريا ديوبند)
📖 ولا يصير شارعا بالتكبير الا في حالة القيام او فيما هو اقرب اليه من الركوع هكذا في الراهدي...(هنديه: ٦٨/١،الباب الرابع في صفة الصلاة ،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- خیار شرط کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص طواف زیارت کے بغیر وطن واپس آ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- نئی دلی اسٹیشن میں انگریزوں کے زمانے سے ایک مسجد بنی ہوئی ہے اس میں باضابطہ امام و مؤذن ہے سرکار یہ چاہتی ہے کہ اس مسجد کو مسمار کر کے اس کے بدلے میں مسلمانوں کی پسندیدہ جگہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کر کے دینا چاہتی ہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی ؟
- اگر کسی ٹنکی میں کوئی پرندہ گر جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- تیمم کا مسنون طریقہ کیا ہے ترتیب وار مکمل بیان کریں؟