جواب:-طواف سے فارغ ہو کر حجرہ سواد کی استلام کر کے باب الصفا کے مسجد سے باہر نکلے اس کے بعد سب سے پہلے صفا پر چڑھے اور قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعائیں مانگے اور تکبیر اور تحلیل پڑھ کر سائی شروع کریں جب ہرے کھمبے کے پاس پہنچ جائے تو تو دوڑنے کے قریب تیز چلے جب مروا پر پہنچ جائے گا تو ایک چکر مکمل ہو جائے گا پھر اسی طرح مروا سے صفا پر ائے گا تو دوسرا چکر پورا ہو جائے گا ایسے ہی ساتھ چکر مروا پر جا کر پورے ہو جائے گی اور اخر میں قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اللہ تعالی سے مراد مانگے اور تدبیر و تحلیل اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور اپنے لیے خصوصی دعا کرتے رہے نیز رمل مردوں کے ساتھ خاص ہے عورتوں کے حق میں نہ رمل مسنون ہے اور نہ ہی سعی ۔فقط واللہ اعلم

📖 إن أراد السعي واستلم الحجر وكبَّر وحلَّل، وخرج من باب الصفا ندبًا، فصعد الصفا بحيث يرى الكعبة، واستقبل البيت، وكبَّر، وصلَّى على النبي صلى الله عليه وسلم، ورفع يديه ودعا بما شاء، ثم مشى بين الصفا والمروة. (الدر المختار مع رد المحتار، 3/513–515، كتاب الحج، مكتبة زكريا، ديوبند)

📖 ثم يخرج إلى الصفا من أيِّ بابٍ شاء، ويسعى بين الصفا والمروة. (فتاوى قاضي خان، 1/178–179، كتاب الحج، مكتبة أشرفية، ديوبند)

📖 ثم إذا أراد، أي أراد أن يسعى بين الصفا والمروة، عاد إلى الحجر الأسود فاستلمه إن استطاع.(الفتاوى الهندية، 1/290، كتاب المناسك، الباب الخامس، مكتبة أشرفية، ديوبند)