جواب:-صفت نکاح کے لیے چند شرطیں ہیں (1). با وقت دو مسلمان ازاد عاقل و بالغ گواہوں کا موجود ہونا خواہ دو آزاد مرد ہو یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں (2). عاقدین میں سے ہر ایک کا ایجاب و قبول کے وقت دوسرے کا کلام سننا خوا ہ یہ سننا وصالة ہو یا ولادة ہو وکالة (3) ایجاب و قبول دونوں کی مجلس کا متحد ہونا (4) دونوں گواہوں کے ایک ساتھ ایجاب و قبول کو سننا اور سمجھنا ضروری ہے اگرچہ لفظ کے معنی نہ جانتے ہو (5). زوجین میں نکاح کی اہلیت کا پایا جانا بھی شرط ہے (6). نکاح کو کسی وقت کے ساتھ موقت نہ کرنا (7). زوجین کا ہم مذہب ہونا (8). زوجین کا ہم جنس ہونا وغیرہ-فقط واللہ اعلم۔
📖 📖 📖 ولا ينعقد نكاح المسلمين الا بحضور شاهدين حريين عاقلين بالغين مسلمين رجلين او رجل وامراتين......(الهنديه: ٣٢٨/٢،كتاب النكاح ،زمزم بوك, ديوبند)
📖 📖 📖 وشرط سماع كل من العاقدين لفظ احد ليتحقق رضاهما وشرط حضور شاهدين........ حرين او حر وحريتن مكلفين سامعينا قولهما معا على الاصح فاهمين انه نكاح على مذهب....(رد المختار: ٧٤/٤-٩٢،كتاب النكاح، زكريا، ديوبند )
📖 📖 📖 واما شروطه فمنها: العقل والبلوغ والحرية في العاقد ... ومنها: المحل القابل وهو المراة ... ومنها سماع كل من العاقدين كلام صاحبه.... ومنها الشهادة قال عامه العلماء... ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح ... ومنها ان يكون الزوج والزوجة معلومين..(فتاوى الهنديه: ٣٣٢/١-٣٣٥،كتاب النكاح زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟