الجواب:-اسلام اگرچہ ایک عبادت مقصودہ ہے مگر پھر بھی اس میں نیت شرط نہیں ہے لہذا صورت مسولہ میں مشرک کا محض نکاح کے لیے اسلام لانا معتبر ہے اور وہ نکاح بھی درست ہوگا-”فقط واللہ اعلم
📖 📖 📖 واما في العبادات كلها فهي شرط صجتها الا الاسلام فانه يصح بدونها بدليل قولهم: ان اسلام المكره صحيح... الخ(الاشباه والنظائر:٧٦/١ فقيه الامه ديوبند)
📖 📖 📖 ويجوز تزوج الكتابيات لقوله تعالى والمحسنات من الدين اوتوا الكتاب اي العفائف.....(هدايه: ٣٣٢/٢،كتاب النكاح، زمزم ديوبند )
📖 📖 📖 والصحه نكاح كتابية وان كره تنزيها مؤمنة نبي مرسل مقدة بكتابي منزل......(شامي: ١٢٥/١٣٤،كتاب النكاح، زكريا،ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟