📖 وقال المفرد بالحج بلسانه مطابقا لجنانه اللهم انا اريد الحجه الآخر المشفته وطول مدته ثم لبي دير صلاته ناويا بها بالتلبية الحج...(در مختار مع رد مختار: ٤٨٩/٣-٥٠٦ كتاب الحج زكريا ديوبند)
📖 فصل: في كيفية اداء الحج المحرم بالحج اذا القى محظوراته احرامه و قدم مكه فدخلها ليلا او نهارا لا يضر المستحب ان يدخلها نهرا..(قاضيخان: ١٧٨/٧-١٨٤ كتاب المناسك اشرفيه ديوبند)
📖 ويستحب: ان يغتسله للدخول المكه واي دخلها نهارا فاذا دخل المكه ابدا بالمسجد بعد ما حط اثقاله،ومنها احرام الحج: قالوا ينبغي ان يكون محرما بالحج عند عدي الصلاتين المراد بالحج اذا انى بتواف القدوم وافضل اي يسعي بعده ولكن يسعي بعد طواف زيارتة ..... ثم يرجع الى منى فان كان معه نسك ذبحه وان لم يكن فلا يضره لانه مفرد بالحد ثم يحلق راسه او يقصر ويحلق افضل..طواف زيارة (الهندية:٢٨٩/١-٢٩٥ كتاب المناسك اشرفيه ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟