📖 **فَالْمُفْتَى بِهِ لُزُومُهُ فِي تَكْبِيرَةٍ وَتَلْبِيَةٍ، لَا قِرَاءَةٍ، وَرَفْعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ، وَقِيلَ: مَعَهُ، مُحَاذِيًا بِإِبْهَامَيْهِ شَحْمَتَيْ أُذُنَيْهِ، وَالْمُرَادُ بِالْمُحَاذَاةِ لِأَنَّهَا لَا تَتَيَقَّنُ إِلَّا بِذَلِكَ...**حوالہ:** رد المحتار على الدر المختار، ج 2، ص 182، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ط: زكريا، ديوبند۔
📖 **وَكَيْفِيَّتُهَا: إِذَا أَرَادَ الدُّخُولَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذَاءَ أُذُنَيْهِ، حَتَّى يُحَاذِيَ بِإِبْهَامَيْهِ شَحْمَتَيْ أُذُنَيْهِ، وَبِرُؤُوسِ الْأَصَابِعِ فُرُوعَ أُذُنَيْهِ، وَلَا يُطَأْطِئُ رَأْسَهُ عِنْدَ التَّكْبِيرِ...**حوالہ:** الفتاوى الهندية، ج 1، ص 130، كتاب الصلاة، الفصل الثالث في سنن الصلاة، ط: زكريا، ديوبند۔
📖 **وَأَمَّا صِفَةُ الصَّلَاةِ، فَهُوَ أَنَّهُ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَدْخُلَ فِي الصَّلَاةِ، لَوَّى وَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ تَكْبِيرَةَ الْإِحْرَامِ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَهُوَ سُنَّةٌ، وَالْأَفْضَلُ كَوْنُ الرَّفْعِ مَعَ التَّكْبِيرِ... وَذَكَرَ فِي الْهِدَايَةِ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ أَوَّلًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ...**حوالہ:** حلبي كبير، ج 2، ص 139–140، كتاب الصلاة، ط: دار العلوم، ديوبند۔
مزید متعلقہ سوالات
- ہندوستانی زمینوں کی پیداوار پر عشر واجب ہے یا نہیں؟
- عورت کے غسل جنابت میں چوٹی کھولنا ضروری ہے یا نہیں
- واشنگ مشین میں ناپاک کپڑا پاک ہوگا یا نہیں؟
- ایک شخص کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا بیوی میکے چلی گئی بیوی اور اس کے گھر والے طلاق کا مطالبہ کر رہی تھے جبکہ شوہر طلاق دینا نہیں چاہ رہا تھا بالآخر دونوں جانب سے پنچایت بیٹھی اور طلاق نامہ لکھا گیا وکیل نے شوہر کے اور گواہوں کے بھی دستخط کرائے شوہر نے زبردستی فور میلٹی پوری کرنے کے لیے طلاق نامے پر دستخط کیے مگر شوہر راضی نہیں تھا لیکن وکیل نے دستخط کرانے کے ساتھ ساتھ زبانی بھی شوہر سے اس تحریر کو پڑھوایا، تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی جبکہ شوہر نے بخوشی دستخط نہیں کیے بلکہ اپنے آپ کو پریشانیوں سے بچانے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن بعد میں تحریر پڑھی ہے۔ برائے کرم جلد از جلد جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔
- کیا قبلہ کی طرف وضو خانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ احادیث میں قبلہ کی طرف تھوکنے کی ممانعت آئ ہے