الجواب:- واضح رہے کہ تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھانے سے متعلق تین طریقے منقول ہیں(1) پہلے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا لے جائیں پھر تکبیر تحریمہ اللہ اکبر کہ کر نماز شروع کی جائے اور تکبیر ختم ہوتے ہی ہاتھ باندھ لے جائیں (2) تکبیر تحریمہ اور ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانا ایک ساتھ ہو ایک ساتھ شروع ہو کر ایک ساتھ ہی ختم ہو یعنی تکبیر کے ختم ہونے تک ہاتھ باندھ لے جائیں (3) پہلے تکبیر تحریمہ شروع کی جائے اس کے فورا بعد ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لے جائے اور ایک ساتھ دونوں (تکبیر تحریمہ اور ہاتھوں کو زیر ناف باندھ لے)کو ختم کیا جائے اس میں افضل کی باری میں یہ ہے کہ بالا تینوں صورتوں سے نماز ادا ہو جاتے ہیں لیکن ان میں سے پہلا اور دوسرا طریقہ افضل ہے-

📖 **فَالْمُفْتَى بِهِ لُزُومُهُ فِي تَكْبِيرَةٍ وَتَلْبِيَةٍ، لَا قِرَاءَةٍ، وَرَفْعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ، وَقِيلَ: مَعَهُ، مُحَاذِيًا بِإِبْهَامَيْهِ شَحْمَتَيْ أُذُنَيْهِ، وَالْمُرَادُ بِالْمُحَاذَاةِ لِأَنَّهَا لَا تَتَيَقَّنُ إِلَّا بِذَلِكَ...**حوالہ:** رد المحتار على الدر المختار، ج 2، ص 182، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ط: زكريا، ديوبند۔

📖 **وَكَيْفِيَّتُهَا: إِذَا أَرَادَ الدُّخُولَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذَاءَ أُذُنَيْهِ، حَتَّى يُحَاذِيَ بِإِبْهَامَيْهِ شَحْمَتَيْ أُذُنَيْهِ، وَبِرُؤُوسِ الْأَصَابِعِ فُرُوعَ أُذُنَيْهِ، وَلَا يُطَأْطِئُ رَأْسَهُ عِنْدَ التَّكْبِيرِ...**حوالہ:** الفتاوى الهندية، ج 1، ص 130، كتاب الصلاة، الفصل الثالث في سنن الصلاة، ط: زكريا، ديوبند۔

📖 **وَأَمَّا صِفَةُ الصَّلَاةِ، فَهُوَ أَنَّهُ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَدْخُلَ فِي الصَّلَاةِ، لَوَّى وَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ تَكْبِيرَةَ الْإِحْرَامِ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَهُوَ سُنَّةٌ، وَالْأَفْضَلُ كَوْنُ الرَّفْعِ مَعَ التَّكْبِيرِ... وَذَكَرَ فِي الْهِدَايَةِ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ أَوَّلًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ...**حوالہ:** حلبي كبير، ج 2، ص 139–140، كتاب الصلاة، ط: دار العلوم، ديوبند۔

مزید متعلقہ سوالات