اگر آس پاس کہیں گانا بجانا ہو رہا ہو اور اس کی آواز کی وجہ سے نماز میں خشوع و خضوع اور یکسوئی متاثر ہوتی ہو، تو کیا اس آواز سے بچنے کے لیے کان میں روئی وغیرہ لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟
جواب:
اگر آس پاس کہیں گانا بجانا وغیرہ ہو رہا ہو اور اس کی آواز کی وجہ سے نماز کے خشوع و خضوع اور یکسوئی میں خلل پیدا ہوتا ہو، تو نماز میں مکمل توجہ اور یکسوئی برقرار رکھنے کے مقصد سے اگر کوئی شخص اپنے کانوں میں روئی (کپاس) وغیرہ لگا کر نماز ادا کرے، تو شرعی اعتبار سے اس میں کوئی حرج اور قباحت نہیں ہے۔
📖 قال الكاساني رحمه الله: «وإن كان إلى جانب المصلي من يقرأ القرآن أو يتكلم أو يغني، فإن كان يشوش عليه صلاته يكره له أن يصلي هناك، وإن لم يجد مكانا آخر فلا بأس أن يسد أذنيه بشيء حتى لا يسمع ذلك» --// بدائع الصنائع: 1/216
مزید متعلقہ سوالات
- خیار شرط کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص طواف زیارت کے بغیر وطن واپس آ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- نئی دلی اسٹیشن میں انگریزوں کے زمانے سے ایک مسجد بنی ہوئی ہے اس میں باضابطہ امام و مؤذن ہے سرکار یہ چاہتی ہے کہ اس مسجد کو مسمار کر کے اس کے بدلے میں مسلمانوں کی پسندیدہ جگہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کر کے دینا چاہتی ہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی ؟
- اگر کسی ٹنکی میں کوئی پرندہ گر جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- تیمم کا مسنون طریقہ کیا ہے ترتیب وار مکمل بیان کریں؟