جواب:
اگر آس پاس کہیں گانا بجانا وغیرہ ہو رہا ہو اور اس کی آواز کی وجہ سے نماز کے خشوع و خضوع اور یکسوئی میں خلل پیدا ہوتا ہو، تو نماز میں مکمل توجہ اور یکسوئی برقرار رکھنے کے مقصد سے اگر کوئی شخص اپنے کانوں میں روئی (کپاس) وغیرہ لگا کر نماز ادا کرے، تو شرعی اعتبار سے اس میں کوئی حرج اور قباحت نہیں ہے۔
📖 قال الكاساني رحمه الله: «وإن كان إلى جانب المصلي من يقرأ القرآن أو يتكلم أو يغني، فإن كان يشوش عليه صلاته يكره له أن يصلي هناك، وإن لم يجد مكانا آخر فلا بأس أن يسد أذنيه بشيء حتى لا يسمع ذلك» --// بدائع الصنائع: 1/216
مزید متعلقہ سوالات
- کیا میت کا پوسٹ مارٹم، میڈیکل تعلیم کے لیے انسانی لاش کی تشریح اور میت کے اعضاء کو طبی تحقیق کے لیے محفوظ رکھنا شرعاً جائز ہے؟
- کیا بچے کی پیدائش کی خوشی میں رشتہ داروں اور دوست احباب کو دعوت کھلانا جائز ہے؟
- کیا ختمِ قرآن کے بعد مدرسے کے طلبہ کو پیسے دینا اور کھانا کھلانا جائز ہے؟
- شادی سے پہلے لڑکی کو دیے گئے کپڑے وغیرہ کیا مہر میں شامل ہوں گے؟
- مرغی ذبح کرتے وقت قبلہ رخ ہونا ضروری ہے؟ اور اگر مرغی کو پاؤں سے دبا کر ذبح کیا جائے تو کیا اس کا گوشت حلال ہوگا؟