الجواب وبالله التوفیق واضح رہے کہ قربانی ہر اس مسلمان عاقل بالغ مقیم پر واجب ہوتی ہے جس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سے زائد اتنا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، اور یہ مال اس کی حاجات اصلیہ سے زائد موجود ہو خواہ ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو یا رہائشی مکان سے زائد کوئی مکان، پلاٹ، ہو یا زائد سواری وغیرہ کی شکل میں ہو صورتِ مسئولہ میں قربانی کے ایام میں ضرورت سے زائد رقم کو دیکھیں گے، اگر وہ نصاب کے بقدر ہے تو قربانی واجب ہے، وہ رقم جو ہر مہینے ضروریات پر خرچ ہونی ہوتے ہیں جیسے ماہانہ بل فیس وغیرہ یہ ضروریاتِ اصلیہ متعلق ہیں؛ اس لیے اس رقم کی بنا پر مذکورہ شخص پر قربانی واجب نہ ہو گی۔

📖 وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) (قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم،وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ( ٦/ ٣١٢ )

مزید متعلقہ سوالات