الجواب:-جماعت کی نماز میں جو صفوں کی ترتیب ہے اس میں صرف امام کی جگہ متعین ہے کسی اور کی جگہ متعین نہیں ہے البتہ احادیث میں اتنی بات منقول ہے کہ امام کے قریب سمجھدار اور دیندار لوگ کھڑے رہیں اور مؤذن کا کہیں سے بھی قریب سے ہو یا دور سے دائیں سے ہو یا بائیں سے اقامت کہنا درست ہے البتہ مؤذن کا امام کے پیچھے رہنا ہي افضل ہے کیونکہ کچھ احثا ہو جائے تو اس کو حل کر سکے کیونکه اکثر امام سمجھدار اور دیندار ہوتا ہے-

📖 وَإِذَا انْتَهَى الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ إِلَى قَوْلِهِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، لَهُ الْخِيَارُ؛ إِنْ شَاءَ أَتَمَّهَا فِي مَكَانِهِ، وَإِنْ شَاءَ مَشَى إِلَى مَكَانِ الصَّلَاةِ، إِمَامًا كَانَ الْمُؤَذِّنُ أَوْ لَمْ يَكُنْ. حوالہ: المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ج 2، ص 103، كتاب الصلاة

📖 وَيُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ عَلَى طُهْرٍ؛ لِأَنَّهُ ذِكْرٌ، فَيُسْتَحَبُّ فِيهِ الطَّهَارَةُ كَالْقُرْآنِ، كَمَا فِي الِاخْتِيَارِ. وَالْمُرَادُ مِنَ الطَّهَارَةِ: الطَّهَارَةُ مِنَ الْحَدَثِ، سَوَاءٌ كَانَ الْأَصْغَرَ أَوِ الْأَكْبَرَ، لَا الْأَكْبَرَ فَقَطْ، كَمَا تَوَهَّمَهُ الْبَعْضُ... حوالہ: مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، ج 1، ص 117، كتاب الصلاة، فقيه الأمة، ديوبند۔

📖 وان اذن رجل وامام رجل آخر ان غاب الأول جاز من غير كراهة وان كان حاضرا وتلحقه الوحشة باقامة غيره يكره وان رضي به لا يكره عندنا....(الفتاوى التاتارخانية:١٤٦/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)