تکبیرِ اقامت کے لیے کوئی جگہ متعین ہے یا نہیں
📖 وَإِذَا انْتَهَى الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ إِلَى قَوْلِهِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، لَهُ الْخِيَارُ؛ إِنْ شَاءَ أَتَمَّهَا فِي مَكَانِهِ، وَإِنْ شَاءَ مَشَى إِلَى مَكَانِ الصَّلَاةِ، إِمَامًا كَانَ الْمُؤَذِّنُ أَوْ لَمْ يَكُنْ. حوالہ: المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ج 2، ص 103، كتاب الصلاة
📖 وَيُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ عَلَى طُهْرٍ؛ لِأَنَّهُ ذِكْرٌ، فَيُسْتَحَبُّ فِيهِ الطَّهَارَةُ كَالْقُرْآنِ، كَمَا فِي الِاخْتِيَارِ. وَالْمُرَادُ مِنَ الطَّهَارَةِ: الطَّهَارَةُ مِنَ الْحَدَثِ، سَوَاءٌ كَانَ الْأَصْغَرَ أَوِ الْأَكْبَرَ، لَا الْأَكْبَرَ فَقَطْ، كَمَا تَوَهَّمَهُ الْبَعْضُ... حوالہ: مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، ج 1، ص 117، كتاب الصلاة، فقيه الأمة، ديوبند۔
📖 وان اذن رجل وامام رجل آخر ان غاب الأول جاز من غير كراهة وان كان حاضرا وتلحقه الوحشة باقامة غيره يكره وان رضي به لا يكره عندنا....(الفتاوى التاتارخانية:١٤٦/٢،كتاب الصلاة، زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- استنجاء کا مسنون طریقہ کیا ہے وضاحت بیان کریں؟
- ایک شخص تہجد کے وقت اٹھا اس نے وضو کرکے دورکعت نفل نماز پڑھی نماز سے فارغ ہونے بعد پتہ چلا کہ فجر کا وقت شروع ہوچکا کافی دیر پہلے اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ دو رکعت فجر کی سنتوں کے قائم مقام ہوں جائیں گی یا نہیں ؟
- اولاد کو والدین سے پہلے حج کرنا درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں؟
- انسان کا جھوٹا پاک ہے یا ناپاک؟ اس کی تفصیل کیا ہے؟
- نیل پالش لگانے کے بعد وضو درست ہوتا ہے یا نہیں؟