الجواب وباللہ التوفیق:-جو شخص زمین پر کسی بھی طرح بیٹھنے پر قادر نہیں ہے اور کرسی پر بیٹھ کر سر کے اشارہ سے نماز پڑھے گا تکیہ یا کسی اونچی چیز پر سجدہ نہیں کرے گا مسند ابو یعلی موصلی میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئی اور میں بھی آپ کے ساتھ موجود تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ مریض تکیہ پر سجدہ کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے منع فرما کر یہ اشارہ فرمایا کہ اگر تم زمین پر سجدہ کرنے پر قدرت رکھتے ہو تو زمین پر سجدہ کرو ورنہ اشارے کے ساتھ نماز پڑھو اور رکوع کے مقابلے میں سجدہ میں زیادہ جھکا کرو اسی روایت کو امام ابو ہیشمی رحمہ اللہ نے مجمع الزواند میں مسند بزاز کے حوالہ سے نقل فرمایا ہے اور ساتھ ہی فرمایا: رجال الیترار رجال الصحیح۔

📖 عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: عاد رسول الله صلى الله عليه وسلم مريضا، ولنا معه قراه يصلي ويسجد على وسادة... وقال إن استطعت أن تسجد على الأرض فاسجد وإلا فاوما ايماء، واجعل السجود احفض من الركوع (مسند ابو يعلى الموصلي:201/2،رقم رقم: 1805،دار الكتب العلمية،بيروت مجمع الزوائد:148/2)

📖 عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن استطاع منكم أن يسجد فليسجد، دين لم يستطع فلا يرفع الى جيهته شيئا ليسجد عليه؛ ولكن ركوعه و سجوده براسه (المعجم الاوسط: 207/5،دار الكفر،رقم: 7089)

مزید متعلقہ سوالات