الجواب و باللہ التوفیق: واضح رہے کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے. رمضان کا روزہ نذر معین کا روزہ اور نفل روزہ کی نیت سحری کے بعد بھی کر سکتے ہیں اور اس کا آخری وقت نصف نہار شرعی سے پہلے پہلے ہے اسکے بعد معتبر نہیں ہوگی. نصف نہار شرعی سے مراد یہ ہے کہ اگر صبح صادق کے طلوع اور سورج غروب کے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اس کے درمیانی نقطے کو صنف نہار شرعی کہتے ہیں اس سے پہلے روزے کی نیت کرنا ضروری ہے اس کے بعد روزے کی نیت معتبر نہیں ہوگی . فقہاء نے لکھا ہےکہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے ارادے سے سحری کر لیا تویہ نیت کا قائم مقام ہو جائے گا فقط والله اعلم
📖 فيصح أداء صوم رمضان والنذر المعين.النفل بنية من الليل.......... إلى الضحوة الكبرى لا بعدها(درمختار) قوله إلى الضحوة الكبرى المراد بها نصف النهار الشرعي(شامي زكريا ٣٣٨/٣-٣٤١: الفتاوى الهندية ١٩٥/١
📖
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟