الجواب:-اگر بواسیر کے مرض اس طور پر لاحق ہے کہ خون یا رطوبت مسلسل خارج ہوتی رہتی ہو اور ایک نماز کے مکمل وقت میں اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وہ باوضو ہو کر پاکی کی حالات میں وقتی فرض نماز ادا کر سکے تو اس صورت میں یہ شخص کو معذور کہلائے گا پھر جب کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر نہ پایا جائے تب تک معذور شمار ہوگا اور معذور شخص کے لیے وضو کا شرعی حکم ہے ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد ایک مرتبہ وضو کرلے اور نماز پڑھے پھر وضو کے بعد اس بیماری کے علاوہ اگر کوئی نواقض وضو صادر نہ ہو تب تک وضو نہ کرے ورنہ دوبارہ وضو کرے اور اگر مسلسل بواسیر کی بیماری نہیں تو معذور شمار نہیں ہوگا تو اس صورت میں وضو کا شرعی حکم ہے کہ اگر رطوبت خارج ہو جائے تو وضو باقی نہیں رہے گا تو طہارت کے لیے ازسرنو وضو کرنا ہوگا-

📖 وصاحب عذر من به سلس بولا بمكنه امساله او استطلاق بطن او انفلات ريح.... ان استوعب عذرة تمام وقت صلاة مفروضة بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا ينوصو يصلي فيه.... خاليا عن الحدث ولو حكما....الخ(شامي: ٣٠٥/١، باب الحيض: مطلب في احكام المعذور: سعيد)

📖 ومن به سلس بول وهو من لا يقدر على امساكه والرعاف الدم الخارج من الانف والجرح الذي لا يرقأ اي الذي لا يسكن دمه من رفاء الدم سكن وانما كان وضوءها لوقت كل فرض لا لك صلاة لقوله عليه الصلاة والسلام الميتحاضة تتوضا لوقت كل صلاة رواه سبط ابن الجوذي اني أبي حنيفة (البحر الرائق: ٢٢٦/١،دار الكتاب ديوبند)

مزید متعلقہ سوالات