📖 اللاحق: وهو الذي ادرك اولها وفاته الباقي لنوم او حدث او بقي قائما للزحام او الطائفة الاولى في صلاة الخوف كأنه خلف الامام لا يقرأ ولا يسجد للسهو..... ولو سجد الامام للسهو لا يتابعه اللاحق قبل قضاء ما عليه بخلاف المسبوق اللاحق اذا عاد بعد الوضوء ينبغي له ان يشتعل اولا يقضاء ما سبقه الامام بغير قراءه يقوم مقدار القيام الإمام وركوعه وسجوده....(بالفتاوى الهندية:١٥٠/١،كتاب الصلاة،زكريا ديوبند)
📖 واعلم ان المدرك من صلاتها كاملة مع الامام والاحق من فاتته الركعات كلها او بعضها.... بأن سبق امامه في ركوع وسجود فإنه حكمه كمؤتم فلا ياتي بقراءة ولاسهو.... لترك الترتيب..... وان قرأ مع الامام لعدم.....(رد المختار: ٣٤٣/٢-٣٤٨،كتاب الصلاة، باب الامامة، زكريا ديوبند)
📖 وهذا واجب لا شرط حتى لو عكس فإنه يصيح فلو نام في الثالثة واستيقظ فيالرابعة فإنه يأتي بالثالثة بلا قرأة لانه لاحق فيها فاذا فرغ منها قبل ان يصلي الامام.... وان بعد فراغ الامام صلى الرابعة وحدها بلا قراءة ايضا لانه لا حق فلو تابع الامام....(البحر الرائق: ٦٢٣/١،كتاب الصلاة، باب الامامة، المكتبه التهانوية ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟