سوال :-مسبوق اگر امام کے ساتھ سلام پھر دے تو اسکی نماز ہوگی یا نہی اور اس پر سجدہ سہو کب لازم ہوگا ؟
📖 والمسبوق یسجد مع إمامہ“: قید بالسجود؛ لأنہ لا یتابعہ فی السلام ؛ بل یسجد معہ ویتشھد، فإذا سلم الإمام قام إلی القضاء، فإن سلم فإن کان عامداً فسدت وإلا لا، ولا سجود علیہ إن سلم سھواً قبل الإمام أو معہ، وإن سلم بعد لزمہ لکونہ حینئذ منفرداً، بحر، وأراد بالمعیة المقارنة، وھو نادر الوقوع، شرح المنیة، وفیہ: ولو سلم علی ظن أن علیہ أن یسلم فھو سلام عمد یمنع البناء۔ (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب سجود السھو،٥٤٦/٢۔٥٤٧، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ثم قال: فعلی ھذا یراد بالمعیة حقیقتھا، وھو نادر الوقوع اھ، قلت: یشیر إلی أن الغالب لزوم السجود؛ لأن الأغلب عدم المعیة، وھذا مما یغفل کثیر من الناس فلیتنبہ لہ (المصدر السابق، کتاب الصلاة، آخر باب الإمامة ، ۲:۳۵۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)
📖 ومن أحكامه أنه لو سلم مع الإمام ساهيا أو قبله لا يلزمه سجود السهو لأنه مقتد وإن سلم بعده لزمه وإن سلم مع الإمام على ظن أن عليه السلام مع السلام فهو سلام عمد فتفسد...(البحر الرائق)1/662.ط : زكريا
مزید متعلقہ سوالات
- نکاح کے لیے اسلام قبول کرنے والے شخص کا نکاح صحیح ہوگا؟
- کیا خودکشی کرنے والے کی روح معلق رہتی ہے؟
- قعدۂ اخیرہ چھوڑ کر پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے نماز صحیح ہوگی؟
- ایک شخص پر ٥ رمضان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۵ رمضان میں وہ دو لاکھ کا مالک ہے اس کے بعد اس کے پاس مال میں اور اضافہ ہوا تقریباً دس لاکھ کا مالک ہوگیا اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس اضافی رقم کی زکوۃ کب نکالی جائے گی ؟
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟