ٹیک یا سہارا لگاکر نماز پڑھ نے سے نماز درست ہوجائیں گی یانہیں ؟ مدلّل جواب مرحمت فرمائیں؟
الجواب وبالله التوفيق»
واضح رہے کہ بلاعذر ٹیک لگاکر فرض نماز ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ ضرورت یا عذر مثلاً بیماری یا چکر وغیرہ کی وجہ سے ٹیک لگائی جائے تو منع نہیں ہے، اور نفل نماز بلاعذر ٹیک لگاکر ادا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، اور اگر عذر ہو مثلاً تھکاوٹ وغیرہ ہو تو بلاکراہت جائز ہے -فقط
📖 (وللمتطوع) أي: المتنفل (أن يتكىء على شيء) أي شيء كان كعصاً ونحوها (إن أعيا) أي: تعب وقد جاء لازمًا ومتعديًا يقال: أعيا الرجل في المشي إذا تعب وأعياه الله والمراد اللازم، قيد بالإعياء لأن الاتكاء بدونه مكروه وقيل: لا يكره لأن القعود بغير عذر لا يكره فالاتكاء أولى وعندهما لما لم يجز القعود كره الاتكاء إلا أن الأصح ما قال فخر الإسلام: إنه يكره الاتكاء بلا عذر دون القعود لجواز أن يعد الاتكاء إساءة أدب دون القعود إذا كان على هيئة لا تعد إساءة أدب.(الدر المختار مع رد المحتار ١٠٢/٢)
📖 أخرج ابن أبي شیبۃ عن الحسن أنہ کان یکرہ أن یعتمد الرجل علی الحائط في صلاۃ المکتوبۃ إلا من علۃ، ولم یر بہ في التطوع بأساً۔ (مصنف ابن أبي شیبۃ / باب في الرجل یعتمد علی الحائط وہو یصلي ۳؍۵۵۱)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟