الجواب وبالله التوفيق»
واضح رہے کہ بلاعذر ٹیک لگاکر فرض نماز ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ ضرورت یا عذر مثلاً بیماری یا چکر وغیرہ کی وجہ سے ٹیک لگائی جائے تو منع نہیں ہے، اور نفل نماز بلاعذر ٹیک لگاکر ادا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، اور اگر عذر ہو مثلاً تھکاوٹ وغیرہ ہو تو بلاکراہت جائز ہے -فقط
📖 (وللمتطوع) أي: المتنفل (أن يتكىء على شيء) أي شيء كان كعصاً ونحوها (إن أعيا) أي: تعب وقد جاء لازمًا ومتعديًا يقال: أعيا الرجل في المشي إذا تعب وأعياه الله والمراد اللازم، قيد بالإعياء لأن الاتكاء بدونه مكروه وقيل: لا يكره لأن القعود بغير عذر لا يكره فالاتكاء أولى وعندهما لما لم يجز القعود كره الاتكاء إلا أن الأصح ما قال فخر الإسلام: إنه يكره الاتكاء بلا عذر دون القعود لجواز أن يعد الاتكاء إساءة أدب دون القعود إذا كان على هيئة لا تعد إساءة أدب.(الدر المختار مع رد المحتار ١٠٢/٢)
📖 أخرج ابن أبي شیبۃ عن الحسن أنہ کان یکرہ أن یعتمد الرجل علی الحائط في صلاۃ المکتوبۃ إلا من علۃ، ولم یر بہ في التطوع بأساً۔ (مصنف ابن أبي شیبۃ / باب في الرجل یعتمد علی الحائط وہو یصلي ۳؍۵۵۱)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک شخص (زید نے) عمر سے ایک مکان خریدا خریدار نے کچھ پیسہ ادا کر دیا اور باقی پیسے کے بارے میں جانب ان سے یہ طے ہوا کہ قسطوار ادا کرے گا پیسے والے یہ شرط لگائی کہ سارے پیسے ادا ہونے کے دور مبیع مشتری کے قبضے میں ہو جائے گی اس سے پہلے کسی جانبین اس پر راضی ہو گئے تو کیا یہ مقتضی عقد کے خلاف شرط ہے؟
- نکاح کے موقع پر لڑکی سے اجازت لینے کے لیے وکیل گواہان جاتے ہیں تو یہ وکیل پردے میں اجازت لے سکتا ہے نہیں؟ اور وکیل کا محرم ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اسی طرح ٹیلیفون کے ذریعہ سے وکیل بنانے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا ٹیلیفون میں نکاح درست ہو جائے گا؟ اسی طرح ویڈیو کمرہ کے ذریعہ نکاح درست ہو جائے گا یا نہیں؟ جب کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو یہ مجلس واحدہ میں شمار ہے یا نہیں؟
- حافظ قران رمضان کے اخری عشرہ کے اعتکاف میں بیٹھ گیا اور وہ دوسری مسجد میں قران سناتا ہے یا گھر یا حال میں قران سناتا ہے تو قران سنانے کے لیے دوسری مسجد یا گھر یا ہال میں جا سکتا ہے یا نہیں اگر جائے تو ان کا اعتکاف ہو جائے گا ؟
- ایک بچہ کا عقیقہ والے دن نام رکھا گیا اب تین سال بعد نام کے معنی اچھے نہ ہونے کی وجہ سے اس نام کو تبدیل کیا جارہا ہے، تو کیا تبدیل کرسکتے ہیں؟؟
- بعض روایات کے پیش نظر حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مشروع معلوم نہیں ہوتی اور امام صاحب کا موقف کیا ہے اور صحیح مسئلہ کیا ہے کہ عقیقہ مسنون ہے یا نہیں؟ اس پر دلائل اور خصوص کیا ہے؟ کتنے دنوں کے بعد عقیقہ کرنا مسنون ہے اس بات کو بھی واضح کر دے؟